کرک میں مندر جلانے کا واقعہ

خیبر پختونخوا پولیس عامر تہکالے کیس میں عدالتی تحقیقات کے نتیجے میں ذمہ دار قرار پانے والوں کی برخواستگی کے بعد اپنے کھوئے ہوئے وقار کی تلاش میں تھی کہ کرک میں ہونے والے سنگین واقعے میں گھر گئی۔ واقعات کے مطابقکرک کی تحصیل بانڈہ کے علاقہ ٹیری میںہندئووں کے مندر کے توسیع کے معاملے پر ہنگامہ ہو گیا۔ ہزاروں افراد نے مقامی علماء کی قیادت میں مندر پر دھاوا بول دیا اور مندر کوآگ لگا دی۔ ٹیری کے ہندئووں کے مندر کو مزید وسعت دینے کے معاملے پر حالات کشیدہ ہو گئے تھے، اس حوالے سے ٹیری بازار میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جلسہ کے دوران مقامی علما ء کی جانب سے تقاریر کے بعد مشتعل افراد نے ٹیری میں واقع ہندوئوں کے مندر پر دھاوا بول دیا اور آگ لگا کر مندر کو مسمار کر دیا۔ ٹیری میں مندر کا علاقہ کئی گھنٹے مشتعل افراد کے قبضہ میں رہا، مندرکے مکمل جل جانے کے بعد مشتعل افراد منتشر ہوگئے۔ مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر مندر کے واقعہ کے حوالے سے پولیس نے کسی کیخلاف ایف آئی آر درج کی تو اس کیخلاف پوری قوم احتجاج کرکے مقامی پولیس تھانے کا گھیرائو کرکے تھانہ کی عمارت کو بھی مسمار کردے گی۔ اقلیتی برادری کے مندر کو تحفظ دینے میں ناکامی کے بعد دوسرے دن ساڑھے تین سو افراد کیخلاف مقدمے کا اندراج سانپ کے گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے کے مترادف ہے۔ اس کا چیف جسٹس نے بھی نوٹس لیکر رپورٹ طلب کی ہے جس کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام حرکت میں آئے۔ دستور پاکستان کے تحت ہی غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو تحفظ حاصل نہیں بلکہ شرعی طور پر بھی ان پر حملہ اور مسمار کرنے کی اجازت نہیں۔ علاقے کی اقلیتی برادری، ان کے جان ومال او رمندروں کا تحفظ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری ہے جس میں ناکامی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ جب ہم بھارت میں مسلمانوں پرتشدد اور مساجد کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہیں تو اس کا اطلاق خود یہاں پر بھی کیا جانا چاہئے، جو لوگ جذبات میں آکر اس طرح کا اقدام کر گزر تے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ اس کا ردعمل بھارت اور دیگر غیرمسلم ممالک سے کیا آئے گا اور ہمارے اس بے جا اقدام سے دنیا بھر میں ہمارے کلمہ گو بھائی کس طرح سے متاثر ہوں گے اور ان پر کیا بیتے گی۔ علاوہ ازیں پاکستان کے اقلیتوں کیلئے محفوظ ملک نہ ہونے سے ملک کے حوالے سے کیا تاثرات ہوں گے اور وطن عزیز کے مفادات کو کتنا نقصان پہنچے گا اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر اس طرح کا کوئی اقدام جائز ہوتا تو غلبہ اسلام سے لیکر عروج اسلامی سلطنت تک غیرمسلموں کے کتنے معابد صفحہ ہستی سے مٹائے جا چکے ہوتے، اگر اس وقت ایسا نہیں کیا گیا تو اب اس کا کیا جواز ہے؟۔
سنگ مرمر کی فیکٹریوں کی منتقلی کا احسن فیصلہ
ورسک روڈ پشاور اور شبقدر میں قائم ماربل فیکٹریوں کو نئے قائم ہونے والے مہمند اکنامک زون میںرضاکارانہ طور پر اپنی فیکٹریاں منتقل کرنے والے فیکٹری مالکان کو مہمند اکنامک زون میں رعایتی نرخوں پر پلاٹس اورگرانٹس دینے کا اعلان اس مسئلے کے مستقل حل کی جانب سنجیدہ اقدام ہوگا۔ ان فیکٹریوں کی مہمند اکنامک زون منتقلی سے شہر میں ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے کیساتھ ساتھ ماربل کی ان فیکٹریوں کے ایک جگہ یکجا ہونے سے اُنہیں سہولیات کی فراہمی بھی آسان ہوگی۔ صوبے میں سنگ مرمر سے وابستہ کاروباری حلقوں اور اس سے وابستہ کارکنوں کے مفادات کا تحفظ اور ان کو موزوں مقامات پر سہولتوں اور انتظامات کیساتھ منتقلی حکومت کا احسن اقدام ہوگا اور یہ فیکٹری مالکان کے بھی مفاد میں ہوگا۔ ماحولیاتی آلودگی، لوڈشیڈنگ اور ناموزوں مقامات پر کاروبار جیسے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں ماربل فیکٹری مالکان اور حکومت جلد ہی قابل قبول فارمولے پر متفق ہوں گے اور منتقلی کا عمل جلد پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔
صوبے کی پہلی خاتون ڈی پی او کی تعیناتی
خیبر پختونخوا نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار خاتون افسر کی زیریں چترال میں ڈی پی او کے عہدے پر تعیناتی خواتین کو بااختیار بنانے کیساتھ ساتھ ضلع میں خواتین کیلئے مسرت کا باعث امر ہوگا۔ پرامن علاقے میں خاتون ڈی پی او کی تعیناتی خود ان کیلئے بھی خوشگوار تجربہ ہوگا، چترال میں خواتین کی خودکشی کے بڑھتے واقعات سنگین مسئلہ ہیں، خاتون پولیس افسر اس امر پر توجہ دے کر اوروجوہات کے انسداد کی بہتر سعی کر سکیں تو ان کی تعیناتی سود مند اور اس فیصلے کو مزید سراہے جانے کا باعث ہوگا۔ توقع کی جانی چاہیے کہ خاتون ڈی پی او چترال میں اپنی تعیناتی کی توقعات پر پورا اُتریں گی۔ چترال میں سب سے سنگین مسئلہ منشیات کی بڑھتی ہوئی وباء پر قابو پانا ہے، چترال کے طول وعرض میں چرس ہی سنگین مسئلہ نہیں بلکہ گھروں میں مقامی طور پر کشید کردہ شراب کی روک تھام کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ بغیر لائسنس نوجوانوں کا موٹر سائیکل چلانا اور کاغذات کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینا ہوگی اور اس ضمن میں کسی مصلحت اور دبائو میں آئے بغیر کارروائی کر کے خود کو مرد ڈی پی اوز سے بہتر ثابت کرنا ہوگا۔