آل انڈیا مسلم لیگ کا یومِ تاسیس

ایک انگریزی اخبار کے مطابق مریم نواز شریف نے مسلم لیگ ن کے یوم تاسیس کے موقع پر اسلام آباد کشمیر ہائوس میں منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کیا۔ یہ تاریخ کیساتھ کتنا بڑا مذاق ہے اور قوم کو کتنا بڑا دھوکا دیا جا رہا ہے۔ کہاںآل انڈیا مسلم لیگ اور کہاں مسلم لیگ ن' دونوں جماعتوں کی آپس میں نسبت میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ مسلم لیگ ن کا یوم تاسیس اپریل یا مئی 1993ء بنتا ہے جب نواز شریف کی حکومت کو کرپشن چارجز پر صدر غلام اسحق خان نے برطرف کر دیا تھا اور یوں اسلامی جمہوری اتحاد کے خاتمے کے بعد جونیجو صاحب کی مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کر کے نواز شریف اور ان کا ساتھ دینے والوں نے اس وقت کے ڈپٹی سپیکر نواز کھوکھر کے گھر ایف ایٹ اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کر لی۔ یوں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھی مسلم لیگ ن کی رجسٹریشن 1993 کی درج ہے۔ اپنی رجسٹریشن کے اعتبار سے مسلم لیگ ن کو وہ دن یومِ تاسیس کے طور پر منانا چاہیے جس دن 1993ء کے سال وہ قائم ہوئی تھی نا کہ عوام الناس کو دھوکا دینے کیلئے 30دسمبر کو آل انڈیا مسلم لیگ کے یومِ تاسیس کا سہارا لیا جائے۔ اس وقت الیکشن کمیشن میں 12جماعتیں مسلم لیگ کے نام سے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ سب جماعتیں 30دسمبر کو اپنا یومِ تاسیس کیسے اور کیونکر قرار دے سکتی ہیں؟ آل انڈیا مسلم لیگ قیام پاکستان کے بعد پاکستان مسلم لیگ بن گئی تھی۔ نام کی مناسبت سے اگر یوم تاسیس منانے کا کسی کو حق ہے تو وہ چوہدری حسین کی جماعت ہے جو ''پاکستان مسلم لیگ'' کے نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ باقی سب مسلم لیگوں کے نام کیساتھ ن' زیڈ اور عوامی جیسے سابقے لاحقے لگے ہوئے ہیں۔ ویسے بھی آج کی مسلم لیگ ن کا آل انڈیا مسلم لیگ کیساتھ کیا تعلق اور کیسی وابستگی؟حق تو یہ بنتا ہے کہ تمام وہ جماعتیں جو الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ کے نام سے رجسٹرڈ ہیں وہ آج کے دن کو آل انڈیا مسلم لیگ کے یومِ تاسیس کے طور پر منانے کا بندوبست کریں اور بجائے اپنے رونے دھونے کے آل انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد' حضرت قائد اعظم' علامہ اقبال اور دیگر مسلم لیگی قیادت کے ویژن اور تحریک پاکستان کے حوالے سے پاکستانی عوام کو آگاہ کریں۔ اس طرح نئی نسل کو اپنے اسلاف کے بارے میں نہ صرف آگہی ہوگی بلکہ انہیں پتا چلے گا کہ کس طرح مسلمانوں کی جماعت برصغیر میں قائم ہوئی۔ ابتداء میں اس کے مقاصد کیا تھے اور بتدریج اس کے منشور میں کیا تبدیلیاں آئیں اور رفتہ رفتہ آل انڈیا مسلم لیگ کس طرح مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بنی اور اس نے قیام پاکستان کی دشوار منزل کیسے حاصل کی۔مسلم لیگ کے قیام کا دور 1906ء سے لیکر 1920ء تک کا ہے۔ 1920ء سے لیکر 1935ء کے دوران مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ 1920ء کے عشرے کی ابتداء میں خلافت موومنٹ کا عروج تھا چنانچہ مسلم لیگ کی سرگرمیاں بڑی حد تک مانند رہیں۔ نہرو رپورٹ کے جواب میں قائداعظم کے 14نکات اسی عرصے میں پیش ہوئے جنہیں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی دستاویز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد 1935ء سے لیکر 1940ء تک کے دور میں قائداعظم واپس تشریف لائے اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی لیکن منشور کے لحاظ سے مسلم لیگ اور کانگریس میں کوئی فرق نہ تھا۔ دریں حالات قائداعظم نے علامہ اقبال کے خطوط کی رہنمائی میں مسلم لیگ کا لائحۂ عمل تشکیل دینے کا ارادہ کیا۔ 1937ء کا سال اسی لحاظ سے بڑا اہم ہے کہ بنگال کے اے کے فضل حق' پنجاب کے خضر حیات ٹوانہ اور آسام کے وزیراعلیٰ نے قائداعظم کی قیادت کو تسلیم کیا اور مرکز میں آل انڈیا مسلم لیگ کی پالیسی اور برتری کو تسلیم کیا۔ اس دوران برصغیر کے طول وعرض میں قائداعظم نے طوفانی دورے کئے اور عام مسلمانوں تک مسلم لیگ کا پیغام پہنچایا۔ آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانانِ برصغیر کی نمائندہ جماعت 1940ء کی قرارداد پاکستان کے بعد بنی اور برصغیر کے گلی کوچے بٹ کے رہے گا ہندوستان اور لے کے رہیں گے پاکستان کے نعروں سے گونجنے لگا۔ 1945ء کے انتخابات میں 100فیصد مرکزی نشستیں آل انڈیا مسلم لیگ نے جیت لیں جبکہ مسلمان ووٹوں کا 86فیصد ووٹ آل انڈیا مسلم لیگ کے حصے میں آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب انگریز سامراج اور ہندو سامراج کی ہٹ دھرمی اور تاخیری حربوں کے جواب میں قائداعظم نے راست اقدام اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی تاریخ جدوجہد کے نتیجے میں 14اگست 1947ء کو ایک نظریاتی ریاست کے طور پر پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا۔ 30دسمبر کو ہم اُس آل انڈیا مسلم لیگ کا یوم تاسیس مناتے ہیں جس نے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔ آج کے دن ہم ان قائدین کو بھی دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی جدوجہد کی وجہ سے پاکستان معرض وجود میں آیا اور ان شاء اللہ قیامت تک اس کا وجود سلامت رہے گا۔