5 29

سنبھل جاؤ چمن والو

نجانے کہاں سے سرسراتا چلا آیا تھا بادصبا کا وہ جھونکا جس نے سن رسیدہ درخت کے کانوں میں آمد نوبہار کا پیغام پھونکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ آمد نوبہار کی خوشخبری سن کر بوڑھا درخت ایکدم سے جھوم اُٹھے گا لیکن ایسا ہرگز نہ ہوا۔ درخت نے ایک لمبی اور ٹھنڈی آہ بھری۔ بادصبا کا دوسرا جھونکا آیا اور وہ بوڑھے درخت کی ٹھنڈی آہ کو اپنے وجود میں سما کر فضاؤں کی بلندیوں میں بھنگڑے ڈال ڈال کر کہنے لگا
بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے
ہر ایک غنچہ چٹک رہا ہے، گلوں کی رنگت بدل رہی ہے
وہ ناچنے جھومنے اور آمد نوبہار کے نغمے بکھیرنے لگا اور اپنے ساتھ اُڑتے بادصبا کے ہر جھونکے کو چوم چوم کر بہار آئی ہے بہار آئی ہے کا پیغام سنانے لگا۔ یہ کیا ہوگیا ہے تمہیں، پاگل ہوگئے ہو کیا۔ بادصبا کے پہلے جھونکے نے ناچتے گاتے اور اٹھکیلیاں بھرتے جھونکے سے پوچھا، ارے تم کیا جانو کہ اس درخت نے مجھ سے آمد فصل نوبہار کی خوشخبری سن کر میری جھولی میں کیا ڈال دیا۔ کچھ بھی تو نہیں ڈالا اس نے تیری جھولی میں۔
اس نے تو بس ایک ٹھنڈی آہ بھری اور تو لگا پاگلوں کی طرح جھومنے گھومنے چومنے اور چلانے، ارے چپ ہوجا، یہ تو جسے ٹھنڈی آہ کہہ رہا ہے میرے انگ انگ میں ناچ ناچ کر کہہ رہی ہے
دیکھ تیرا کیا رنگ کر دیا ہے
ہوا کا جھونکا تیرے سنگ کر دیا ہے
جھونکے کا یہ پاگل پن دیکھ کر بادصبا اپنی جڑواں بہن نسیم سحر کی جانب دیکھ کر کھل کھلا کر ہنسنے لگی، یہ سچ کہتا ہے، بہت بڑا تحفہ دیا ہے درخت بابا نے اس کو اک آہ سحر گاہی، دیکھتی نہیں کس قدر جراثیم پل اور بڑھ رہے ہیں ہمارے اندر، کورونا وائرس کے پھیلنے کے چرچے تو زبان زدعام ہیں، دشمن آسمان کے اس ناگہانی آفت نے کتنے لوگوں کی جانیں گنوا دیں، کتنوں کو جان کے لالے پڑ گئے، صرف کرونا وائرس کے ہی سبب نہیں، اس قسم کے جانے کتنے جراثیم اور بیماریاں ہیں جو ہمارے بدن میں پیوست ہوکر آدم زادوں اور حوا کی بیٹیوں کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں، یہ تو سچ ہے لیکن اس ساری تباہی کا درخت کی ٹھنڈی آہ سے کیا تعلق ہے، آہ تم اتنا بھی نہیں جانتی کہ درخت کے سینے سے اُٹھنے والی ٹھنڈی آہیں زندہ رہنے والی زندگیوں کیلئے کتنی ضروری ہے، ہاں جانتی ہوں، بادسحر کی اس بات کا نسیم سحر نے جواب دیتے ہوئے اس پر اپنی معلومات کا رعب ڈالتے ہوئے کہا، جانتی ہوں کہ درخت ہمارے اندر کی تمام مضرصحت گیسز جذب کرکے ان کے بدلے آکسیجن جیسی زیست افزاء گیس دیتی ہے، واہ سبحان اللہ، وبحمدہ، کیا قدرت خداوند ی، کس قدر نظام خودکاری ہے فضائی آلودگی کو دور کرنے کا ایک بہن نے دوسری سے کہا، مگر پہلے والی نہایت فکر اور تردد سے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے کہنے لگی کہ تشویش اس بات کی ہے کہ درخت نے آمد نوبہار کا سن کر خوش ہونے کی بجائے ٹھنڈی آہ کیوں بھری، آؤ، پوچھتی ہیں درخت بابا سے اس کے دل کا حال، مگر یہ کیا بادصبا اور نسیم سحر اپنے جھونکوں کے جلو میں جب اس بوڑھے درخت کے قریب پہنچیں تو اس کی ہر شاخ اور ہر ٹہنی نے ایک پُرسوز مشاعرہ برپا کر رکھا تھا۔ درخت کی اک بے برگ وبار ٹہنی کہہ رہی تھی
نئی بہار کا مژدہ بجا سہی لیکن
ابھی تو اگلی بہاروں کا زخم تازہ ہے
دوسری شکوہ بلب تھی کہ
میں نے دیکھا بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
تیسری سینے کے پھپھولے دکھا کر کہہ رہی تھی
میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار
گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں
جتنے منہ اتنی باتیں، جتنے دل اتنے شعر کے مصداق آمد نوبہار کا جشن منانے کی بجائے درخت کا انگ انگ شکوؤں اور شکائیتوں کے دفتر کھولے بیٹھا تھا، کیا ہوا، کتنے رنجور ہیں آپ بادصبا نے آگے بڑھ کر درخت بابا سے پوچھا، کیا بتاؤں بی بی، مری ہر شاخ قلم بن کر لکھ رہی ہے حکایات خوں چکاں، کل جو گھنا جنگل تھا آج وہاں ویرانہ ہے، میرے سنگی ساتھی دوست محبوب سب کاٹ کر لے گئے درختوں کی چوری کرنے والے اور میں اکیلا رہ کر انتظار کر رہا ہوں اپنے کٹ جانے کا، نہ نہ نہ، ایسا نہ کہیں بادصبا نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے اسے تسلی دی، یہ جو تم آسماں کی طرف دست دعا بلند کئے کھڑے ہو اس کا ثمر ضرور ملے گا تجھے، تم ایک بار پھر سایہ دار درخت بن جاؤگے اور ان درختوں کا کیا بنے گا جو بلاجواز کاٹ کر جلا دئیے گئے، در دریچے اور فرنیچر بنا دئیے گئے، دل چھوٹا نہ کرو، یہ دردریچے اور فرنیچر بنانے والے ایک بار پھر درخت اُگانے کا چرچا کر رہے ہیں، یہ درخت اُگانے کا چرچا نہیں کر رہے، کسی بڑے مرتبہ والے سے ایک آدھ پودا لگوا کر فوٹو سیشن منانے کا بھونڈا مذاق کررہے ہیں، اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، سیاہ ست مارے بے ضمیر کہیں کے۔ بوڑھا درخت آپے سے باہر ہونے لگا، اس نے ایک بار پھر ٹھنڈی آہ بھری اور بھرتا چلا گیا ٹھنڈی آہیں، جس کے زیراثر بادصبا، نسیم سحر اور ان کے جھونکے مل کر جشن آمد نوبہار منانے لگے
سنو سجنا پپیہے نے کہا سب سے پکار کے
سنبھل جاؤ چمن والو کہ آئے دن بہار کے