نورم مقدم کے قتل کاملزم

نور مقدم کیس، جمیل احمد کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں گرفتار جمیل احمدکی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ ملزم کے وکیل راجہ رضوان عباسی مدعی کے وکیل بابر علی سمورش عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میں مالی اور چوکیدار کا حوالہ ہے مگر میرے موکل کے حوالے سے کچھ نہیں  اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے درخواست گزار نے 161 کا بیان ریکارڈ کرایا؟جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی میرے موکل نے 161 کا بیان ریکارڈ کرایا ہے ۔

اس موقع پر شوکت مقدم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار جمیل کے خلاف چارج فریم ہو چکا ہے ملزم جمیل کا مالی اور چوکیدار تک کے ساتھ رابطہ تھا ۔درخواست گزار کی موقع واردات پر موجودگی ثابت ہے ۔اغوا اور جبری گمشدگی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں جس کی سزا دس سال ہے ۔سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق جب مقتولہ گھر آتی ہے تو اس کو رات واپس نہیں جانے دیا جاتا۔مرکزی ملزم کے والدین کراچی میں تھے مگر انکی ضمانت منسوخ ہوئی درخواست گزار جمیل تو موقع ورادت پر خود موجود تھا ضمانت کی درخواست مسترد کی جائے ۔بیان میں تو درخواست گزار نے خود کہا کہ مجھے مالی نے بتایا تھا  ،اس موقع پر شوکت مقدم کے وکیل کی جانب سے چارج فریم کی کاپی عدالت کو فراہم کی گئی عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔