او آئی سی

او آئی سی کے وفود کی واپسی کا عمل شروع ہوگیا

اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے افغانستان کی صورتحال پر بلائے گئے 17 ویں غیرمعمولی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے مختلف اسلامی ممالک کے وزرا ئے خارجہ اور غیرملکی مندوبین کی واپسی شروع ہو گئی۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب ، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور معاون خصوصی برائے مذہبی امور و مشرق وسطیٰ علامہ طاہر محمود اشرفی نے مہمانوں کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر الوداع کیا، تینوں حکومتی عہدے داران نے ترکی، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب کے وزرا خارجہ اور ان کے ساتھ آنے والے وفود کو الوداع کیا۔

او آئی سی سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے جاتے ہوئے میڈیا سے گفتگو بھی کی، ان کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کانفرنس کامیاب رہی جو خوش آئند بات ہے، افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں انسانی صورت حال میں بہتری آئے گی، فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کیلئے نمائندہ خصوصی تعینات کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کی ایک اورکامیابی افغانستان کے لوگوں کے لیے فنڈ کا قیام ہے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے علی محمد خان اور علامہ طاہر اشرفی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کے وزرا خارجہ کونسل کے 17 ویں غیرمعمولی اجلاس کی پاکستان نے میزبانی کی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ افغانستان کے اندر جو بھوک و افلاس کی صورتحال ہے اس سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اسلامی ممالک کے وزرا خارجہ اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل، اسلامی ترقیاتی بینک کے سربراہ بھی پاکستان آئے جس سے پوری دنیا کو ایک مضبوط پیغام گیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے بھی افغانستان کی صورتحال پر خاص طور پر پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ دنیا فوری مدد کے لیے سامنے آئے۔

مزید پڑھیں:  8فروری کو عوام فیصلہ کر چکے ہیں،زرتاج گل

فرخ حبیب نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی 40 لاکھ افغان مہاحرین کی میزبانی کی ہے اور افغانستان سے غیرملکی انخلا کے بعد پاکستان نے اپنا کلیدی اور اہم کردار ادا کیا اور آج پوری مسلم دنیا پاکستان میں جمع ہوئی ہے تاکہ یہاں سے ایک مضبوط آواز پوری دنیا کو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سے وزرا خارجہ کو یہاں سے رخصت کیا ہے جن میں سعودی عرب، ملائیشیا، بحرین، یو اے ای، آذربائیجان کے وزرا خارجہ اور مندوبین شامل تھے، تمام نے اس حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ عالم اسلام کی ایک متحد آواز افغانستان کے لیے جانا ایک بہت بڑا عمل ہے جس سے ان قوتوں کو بھی یہ پیغام گیا ہے جو کہتے تھے کہ پاکستان تنہا ہو گیا ہے، 41 سال بعد افغانستان کے مسئلہ پر پاکستان میں او آئی سی کی وزرا خارجہ کانفرنس کا یہاں ہونا اور تمام اسلامی ممالک کا پاکستان آنا پاکستان کی متحرک اور کامیاب خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔

مزید پڑھیں:  پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے مل کر فیصلہ کرنا ہے، شہباز شریف

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ایک طویل عرصہ کے بعد اس سطح کی کانفرنس کے انعقاد سے پوری امت مسلمہ کو بھی خوشی ہوئی ہے اور وزیراعظم عمران خان نے جس طرح امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے اس سے مسلم امہ میں احساس بیدار ہوا ہے کہ اب کسی بھی مسلم ملک کا کوئی مسئلہ اس کا اکیلے کا مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام پر ہمیں فخر ہے جنہوں نے غلامی قبول نہیں کی اور اس کی مثال دنیا کے سامنے ہے لیکن مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں جن کے حل کی تلاش کے لیے تمام امت مسلمہ کے سربراہان کی ہدایت پر او آئی سی وزرا خارجہ پاکستان کی میزبانی میں جمع تھے اور ایک بھرپور پیغام دنیا کو پہنچایا ہے۔