مولانا فضل الرحمان

حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، عدم اعتماد سے قبل پی ڈی ایم کے اعلامیے میں نواز شریف کی مرضی شامل تھی۔

ویب ڈیسک: پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جن لوگوں نے ملکی معیشت کو ڈبویا ہے دوبارہ ان پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے، پی ٹی آئی کو ووٹ دینا ملک کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، پی ٹی آئی حکومت ایسے معاہدے کر کے گئی کہ ملک کو گروی رکھ دیا ہے، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، ہم سب کو آج ملک کیلئے سو چنا ہوگا، کہا گیا کہ فاٹا کا انضمام ہوگا تو قبائلی علاقوں کا درجہ باقی اضلاع کے برابر ہو جائے گا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے مزید کہا کہ عدم اعتماد سے قبل ایک رائے تھی کہ نئے انتخابات کرائے جائیں، نواز شریف نے اب اسی رائے سے متعلق بیان دیا ہے، عدم اعتماد سے قبل پی ڈی ایم کی کے اعلامیے میں نواز شریف کی مرضی بھی شامل تھی، جس دلدل میں ہمیں پھنسایا گیا اس سے نکلنا آسان نہیں، قبائلی نوجوان اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں، قبائلی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، قبائلی علاقے کی انتظامیہ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے، کمیٹی بنا کر ان علاقوں کا سروے کیا جائے تاکہ مسائل حل ہوسکیں، تحریک انصاف نے ملک کو دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

مزید پڑھیں:  بشکیک جانے والا خیبر پختونخوا کا طیارہ پھر لاہور ائیرپورٹ پر روکا گیا ،بیرسٹر سیف

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں حالات پہلے کے مقابلے میں بدتر ہو چکے ہیں، قبائلی لوگوں کو ان کا حق دینا ہوگا، قبائلی لوگوں کو حقوق دینے ہوں گے، طاقتور لوگ عقل سے عاری ہیں اور عقل مند طاقت سے عاری ہیں، شمالی وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں مسلح لوگوں کا راج ہے، ریاست کو قبائلی علاقوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کہا گیا کہ فاٹا کا انظمام ہوگا تو قبائلی علاقوں کا درجہ باقی اضلاع کے برابر ہو جائے گا، آج حقیقت یہ ہے کہ قبائلی علاقے میں نہ انتظامیہ ہے نہ ہی پولیس۔

مزید پڑھیں:  سرکاری حج کوٹہ:31ہزار سے زائد پاکستانی عازمینِ سعودی عرب پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہی ہے، وزیر اعظم سے ملاقات کر کے سنجیدگی کے ساتھ اس پر سوچیں گے، ریاست کی کمزوریوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بدنظمی پیدا ہو گئی ہے، قبائلی علاقوں کے عوام اپنا تحفظ کرنا جانتے ہیں، گزشتہ ہفتے ہمارے 4 سے 5 لوگوں کو شہید کیا گیا، جو طاقتور ہیں وہ عقل سے عاری ہیں، ریاست کی کمزوریوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بدنظمی پیدا ہو گئی۔