بلبل پاکستان خاموش ہو گئیں

معروف فنکارہ اور پلے بیک گلوکارہ نیرہ نور المعروف بلبل پاکستان طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئیں۔ وہ 72 سال کی تھیں۔وہ 1950 میں آسام انڈیا میں پیدا ہوئیں اور 1957 میں پاکستان ہجرت کر گئیں۔

نیرہ نور نے کئی فلمی گیت، غزلیں اور ملی نغمے گائے۔انہیں 2005 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

ان کے مشہور گانوں میں وطن کی مٹی گاوا رہنا، ‘جلے تو جلاؤ گوری’ اور کبھی ہم بھی خوبصورت تھے۔نیئر نور کی نماز جنازہ اتوار کی دوپہر کراچی میں ادا کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معروف گلوکارہ نیرہ نور کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔آج ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ معروف گلوکارہ نیرہ نور کی موت موسیقی کی دنیا کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیرہ نور کو خاص طور پر اپنی آواز میں راگ کے لیے جانا جاتا تھا۔شہباز شریف نے اپنی گائیکی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیرہ نور نے بہترین گیت اور غزلیں گائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وفات کے بعد موسیقی کے میدان میں پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو گا۔ انہوں نے جنت میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا بھی کی۔

دریں اثناء وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بھی عظیم گلوکارہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ نیرہ نور کی سریلی آواز، گانے کا منفرد انداز اور دھن کا انتخاب ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیرہ نور کی موت سے موسیقی کا ایک دور ختم ہو گیا۔