غلطی مان لینے کا انعام

غلطی مان لینے کا انعام

ابو دائود کہتے ہیں: ”میں خلیفہ مامون الرشید کے دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔اسی دوران” ابراہیم بن مہدی” کو اس حال میں لایا گیا کہ اس کی گردن میں لکڑی کسی ہوئی تھی اور پائوں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور اسے لا کر خلیفہ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔
مامون نے اس سے کہا:”ابراہیم! میں نے تمہارے معاملے میں ارکانِ حکومت سے مشورہ بھی کیا اور کافی غور و خوض بھی۔مجھے تمہارے بارے میں صرف قتل کا مشورہ دیا گیا ہے۔ نیز میں تمہارے جرم کو ایسا سنگین دیکھتا ہوں جو تمہارے معمولی حق کو بھی واجب کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے، لہٰذا قتل متعین ہے۔”
ابراہیم بن مہدی: ”امیر المؤمنین! میں بھی کب انکار کر رہا ہوں کہ آپ حق نہ وصول کریں،مگر اس طرح وصول کریں جیسے اللہ تعالیٰ کی عادت ہے اور وہ ہے قدرت کے باوجود درگزر کر دینا۔”
یہ سنتے ہی مامون کا سارا غصہ کافور ہو گیا اور قتل کا ارادہ یک مشت ختم ہو گیا اور کہا:”اللہ کی قسم! اب کینہ اور بغض اپنی موت آپ مر گیا۔ اس نے ایسی بات کر دی ہے کہ اب ان کا اکرام ہم پر لازم ہو گیا ہے، لہٰذا اے میرے خدام! مملکت کے تمام افراد کو اس کا پابند کر دیا جائے کہ ابراہیم بن مہدی کے سامنے کبھی بھی کوئی سوار گزرنے کی ہمت نہ کرے، بلکہ ان کے اعزاز میں کھڑا رہے جب تک کہ یہ گزر نہ جائیں،نیز انہیں درہم و دینار کی پوری دس بوریاں ہبہ کی جائیں اور دس بڑے بڑے صندوق کپڑوں کے دیے جائیں۔”
ابو دائود کہتے ہیں:” میں نے کبھی کوئی ایسا انسان نہیں دیکھا جو مجرم بن کر پیش ہوا ہو اور مال و دولت اور بڑے پرتپاک استقبال کے ساتھ وہاں سے نکلا ہو۔”(راحت پانے والے)

مزید پڑھیں:  عیدالاضحی کا دوسرا روز ،گھروں میں مزیدار پکوانوں کی تیاری جاری