عبادت کی ملمع سازی سے دھوکہ دینا

عبادت کی ملمع سازی سے دھوکہ دینا

اصمعی سے روایت ہے کہ ہلال بن ابن بردہ کو خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ کے پاس بھیجا گیا اور وہ شہر میں تھے۔ اس نے آ کر مسجد کا ایک کونہ سنبھال لیا اور وہاں خوب خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دی اور عمر بن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ اس شخص کو دیکھ رہے تھے عمر نے علاء بن المغیرہ سے کہا اور یہ ان کے مقرب خاص تھے۔ اگر اس شخص کا باطن بھی ایسا ہے جیسا کہ ظاہر تو یہ اہل عراق کی سیرت کے مطابق ہے جس کو بڑائی کے تحفظ کا ذریعہ(یعنی ریاکاری) نہیں سمجھا جائے گا۔
علاء بن المغیرہ نے کہا اے امیر المومنین میں اس کا پتہ لگا کر آپ کو بتاتا ہوں۔ اب علاء اس کے پاس پہنچے اور یہ شخص مغرب اور عشاء کے درمیان نفلوں میں مشغول تھا، انہوں نے اس سے کہا دو رکعت پر سلام پھیر دیجئے۔ مجھے تم سے ایک کام ہے۔ جب اس نے سلام پھیر دیا تو علاء نے کہا کہ تم کو معلوم ہو گا کہ میری رسائی اور تقرب امیر المومنین کی بارگاہ میں کس قدر ہے۔ میں نے امیر المومنین کو اشارہ کیا ہے کہ تم کو عراق کا حاکم بنا دیں۔ بولو ایسا کرا دینے میں مجھے کیا(رشوت) دو گے؟ اس نے(رشوت دینے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا) ایک سال کی پوری تنخواہ۔ اور اس کی مقدار ایک لاکھ بیس ہزار درہم ہوتی تھی۔ علاء نے کہا اس معاہدہ کو تحریر کر دیجئے۔
اس شخص نے فوراً اٹھ کر تحریر کر دیا۔علاء اس تحریر کو لے کر عمر بن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ کے پاس آئے انہوں نے پڑھ کر عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن الخطاب کو لکھا۔ یہ اس وقت کوفے کے گورنر تھے۔ ہلال نے اللہ(کی عبادت کی ملمع سازی) سے ہم کو دھوکہ دینا چاہا،قریب تھا کہ ہم دھوکہ کھا جائیں۔ پھر اس کو پرکھا تو سب کا سب محض کھوٹ پایا۔ (لطائفِ عِلمیہَ)

مزید پڑھیں:  اسلام آباد، پشاورسمیت صوبے کے مختلف شہروں میں زلزلہ