تین عبرتناک واقعے

تین عبرتناک واقعے

تین واقعات کا ذکر جس میں ہمارے لئے عبرت ونصیحت کا بے پناہ ذخیرہ ہے۔
(1)۔پہلا واقعہ تو یہ ہے کہ بغداد کو فتح کر لینے کے بعد ہلاکو خان نے اپنے ساتھیوں سے مستعصم باللہ کے قتل کا مشورہ کیا تو سب نے یہی مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے مگر دو نام نہاد مسلمان اور غدار یعنی نصیر الدین طوسی اور علقمی جو ہلاکو خان کے دربار میں موجود تھے انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ بادشاہ سلامت آپ اس خلیفہ کے گندے خون سے اپنی تلوار کو ناپاک نہ کریں بلکہ اس کو چمڑے میں لپیٹ کر کچل دیا جائے۔ ہلاکو خان نے اس کام کی ذمہ داری علقمی کے سپرد کی جو کہ مستعصم کا وزیر رہ چکا تھا علقمی نے اپنے آقا کو چمڑے میں لپیٹ کر ایک ستون سے باندھا، پھر اس پر لاتوں کی بارش کر دی، یہاں تک کہ اس کا دم نکل گیا، پھر اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ اس کے بعد اس کی لاش زمین پر ڈال دی اور تاتاریوں کو اس لاش پر اچھلنے کودنے اور اسے کچلے کا حکم دیا۔
(2)۔دوسرا واقعہ یہ کہ جب تاتاری عالم اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے تھے اور مسلمانوں کا خون بے دریغ بہا رہے تھے تو امام ابن تیمیہ رحمة اللہ تعالیٰ علیہ نے مسلمانوں کو ان کے خلاف جہاد کرنے کیلئے ابھارا مگر کئی فقہاء اور علماء کا اس کے بارے میں اختلاف ہو گیا کہ تاتاریوں کے خلاف جنگ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ تاتاری تباہی مچا رہے تھے اور مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے۔
(3)۔تیسرا واقعہ یہ کہ خلیفہ نے کئی خفیہ زمین دوز حوض بنا رکھے تھے جن میں جواہرات اور اشرفیوں کی تھیلیاں بھری ہوئی تھیں،ہلاکو خان نے یہ سب خزانے اپنے قبضے میں لے لئے اور خلیفہ کو نظر بند کر دیا۔
خلیفہ کو سخت بھوک لگی،اس نے کھانا مانگا تو ہلاکو خان نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ جواہرات کا ایک طشت بھر کر خلیفہ کے سامنے لے جائو اور کہو کہ یہ کھائو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ خلیفہ نے کہا میں ان کو کیسے کھا سکتا ہوں میرے لئے تو روٹی لائو، ہلاکو خان نے اسے بڑی عبرت آمیز بات کہی، کہا کہ جس چیز کو تم نہیں کھا سکتے اس کو حوضوں میں بھر کر کیوں رکھا ہے، اسے اپنی اولاد یعنی لاکھوں مسلمانوں کی جان بچانے کے لئے کیوں نہ خرچ کیا اور سپاہیوں کو کیوں نہ دیا تاکہ وہ تمہاری طرف سے بہادری کے ساتھ لڑتے اور تمہارا ملک بچاتے۔ (تاریخ کے سنہری واقعات)

مزید دیکھیں :   نجی ہسپتالوںمیں صحت کارڈ پرغیرمعیاری علاج کی تحقیقات