اللہ تعالیٰ کو سجدوں کی کثرت پسند ہے

معدان بن ابی طلحہ یعمری فرماتے ہیں کہ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو عرض کیا ”مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو میں کروں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے یا (روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ) مجھے اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کے بارے میں بتلائیے”وہ خاموش رہے میں نے دوبارہ پوچھا وہ خاموش رہے میں نے سہ بارہ پوچھا تو فرمایا”میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ”تم کثرت سے اللہ کو سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کو جو سجدہ بھی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہارا ایک درجہ بلند کرتے ہیں اور تیری ایک خطا کو معاف فرماتے ہیں۔” (مسلم)
انسان رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ میں ہی ہوتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بندہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، پس تم اس میں دعا زیادہ مانگا کرو”۔(مسلم)
اسی بات کو رب تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اور قرب خدا حاصل کرتے رہنا”
سجدہ میں حد درجے عبودیت اور تواضع و انکساری کا اظہار ہے اس میں انسان اپنے بدن کے سب سے معزز اعضاء کو رب کے حضور مٹی پر رکھ دیتا ہے اور خود کو رب تعالیٰ کی عظمت و بلندی اور عزت و مرتبت کے آگے خاک میں ملا دیتا ہے اس لئے بندہ اس حالت میں رب کو سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اور آدمی جتنا اس عمل میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے رب تعالیٰ کے ہاں با عزت اور بلند مرتبت ہوتا چلا جاتا ہے اور رب تعالیٰ کا محبوب بنتا چلا جاتا ہے۔
یہی وہ فعل ہے جو جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت بھی نصیب کرائے گا۔ مسلم شریف کی طویل حدیث میں حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کا قصہ لکھا ہے کہ وہ رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ایک دفعہ ان کی خدمت سے خوش ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”آج مانگ کیا مانگتا ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ”میں جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت مانگتا ہوں”۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اس کے علاوہ کچھ اور مانگ”۔ انہوں نے عرض کیا”بس یہی” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”تو سجدوں کی کثرت سے میری مدد کر”۔
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ رحم کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو فرشتوں کو حکم دیں گے کہ”اس شخص کو دوزخ سے نکال دو جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا” تو فرشتے ان لوگوں کو سجدوں کے آثار سے پہچان کر جہنم سے نکال دیں گے”۔
آگے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشان کے کھانے کو حرام کر دیا ہے پس وہ لوگ آگ سے نکل جائیں گے اور دوزخ کی آگ ابن آدم کو ہر جگہ سے جلائے گی مگر سجدوں کے نشان کو نہیں جلائے گی”۔(بخاری)
سجدے کی اس فضیلت کی وجہ سے سجدے میں جو دعا بھی مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سجدہ میں خوب دعا مانگو قریب ہے کہ اس کو قبول کیا جائے”(مسلم)

مزید دیکھیں :   فیصل واوڈا نا اہلی کیس، مختصر تحریری فیصلہ جاری