اللہ تعالیٰ کو خیانت کرنے والے پسند نہیں

اللہ تعالیٰ کو خیانت کرنے والے پسند نہیں

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”کچھ شک نہیں کہ خدا دغا بازوں کو دوست نہیں رکھتا”
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
”بے شک خدا کسی کو خیانت کرنیوالے’ناشکرے کو دوست نہیں رکھتا”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ چاروں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس کاحال یہ ہے کہ اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے اور وہ اس حال میں رہے گا جب تک کہ اس عادت کو چھوڑ نہ دے، وہ چاروں عادتیں یہ ہیں کہ جب اس کو کسی امانت کا امین بنایا جائے تو اس میں خیانت کرے، اور جب باتیں کریں تو جھوٹ بولے، اور جب عہد معاہدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب کسی سے جھگڑا اور اختلاف ہو تو بدزبانی کرے”۔
ایک مسلمان کیلئے جہاں اعتقادی نفاق سے بچنا نہایت ضروری ہے اسی طرح منافقانہ سیرت و اخلاق سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔
اعتقادی منافق اللہ اور اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دیا کرتے تھے لیکن سیرت و کردار کا نفاق رکھنے والے’لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں لہٰذا ملاوٹ کرنا،جھوٹے دعوے کرنا،وعدے کر کے مکر جانا یہ سب عملی نفاق کی قسمیں ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بن بلائے گواہی دینے نذریں مان کر پوری نہ کرنے کو بھی کردار کے نفاق میں شمار فرمایا ہے اس طرح کسی کو غیر مفید مشورہ دینا بھی خیانت ہے۔ سب سے بری شکل خیانت کی یہ ہے کہ ہم لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہوں اور لوگ ہمیں سچا گمان کر رہے ہوں۔
ہمیں چاہئے کہ ہم عزیزوں،رشتہ داروں،دوستوں،اجنبیوں،پڑوسیوں اور کاروباریوں کے ساتھ پوری پوری دیانتداری سے کام لیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
”بے شک خدا خائن(اور) گنہگار کو دوست نہیں رکھتا”
مذکورہ بالا حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق کی چار خصلتوں کو ذکر فرمایا ہے اگر کسی شخص میں ان میں سے ایک خصلت بھی ہوگی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی اور جس میں یہ چاروں خصلتیں ہوں وہ اپنی سیرت و کردار میں خالص منافق ہے۔
اور اگر معاذاللہ کسی بدنصیب کے باطن میں اس کے ساتھ اعتقادی نفاق کا مرض بھی لگا ہوا ہے تو وہ کردار و اعتقاد دونوں میں خالص منافق ہے۔ (اللہ کو کیا پسند کیانا پسند)

مزید دیکھیں :   دفترخارجہ کا افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے سے متعلق اہم بیان سامنے آگیا