افغان طالبان سرعام سزائے موت

افغان طالبان کے دوسرے دوراقتدارمیں پہلی بار سرعام سزائے موت

ویب ڈیسک :افغانستان میں طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ سرعام موت کی سزا دی ہے۔برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ کے مطابق سزا پانے والے شخص کی شناخت تاج میر کے نام سے ہوئی ہے۔طالبان حکام کے مطابق تاج میر کو قتل پر سزا سنا دی گئی تھی جس پر بدھ کو عملدرآمد کیا گیا۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق سرعام موت کی سزا مغربی صوبے فرح میں دی گئی جس کو طالبان رہنمائوں سمیت سینکڑوں افراد نے دیکھا ۔ذبیح اللہ نے بتایا کہ سزائے موت کی توثیق طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ سمت تین اعلیٰ عدالتوں نے کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ مہینے ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ نے ججوں کو اسلامی قوانین بشمول سرعام سزائے موت دینے، کوڑے مارنے اور سنگسار کی سزائوں پر مکمل عملدرآمد کرنے کا حکم دیا تھا۔مذکورہ حکم کے بعد افغانستان میں سرعام کوڑے مارنے کی سزا پر کئی مرتبہ عملدرآمد کیا گیا۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان نے سرعام موت کی سزا دینے کا اعلان سرکاری طور پر کیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ سزا پر عملدرآمد کس طرح کیا گیا۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق سپریم کورٹ کو قصاص کے اس حکم پر سرعام عمل درآمد کی ہدایت کی گئی تھی۔طالبان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سزا پانے والا شخص فرح صوبے کے ضلع انجیل کا رہائشی تھا۔بیان کے مطابق تاج میر نے ایک شخص کو قتل کرکے اس کی موٹر سائیکل اور سیل فون چوری کیا تھا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بعد ازاں مقتول کے ورثا نے قاتل کو شاخت کر لیا اور قاتل نے قتل کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔

مزید پڑھیں:  آئی ایم ایف اہداف کے حصول میں خیبرپختونخوا حکومت کی مشروط آمادگی