حلال کی برکت

حلال کی برکت

حلال پر قناعت کرنے اور حلال کو اختیار کرنے سے اللہ تعالی برکت بھی دیتے ہیں اور نیک اعمال کی توفیق بھی عطافرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے کئی مقامات پر حلال کو اختیار کرنے کا حکم دیاہے،کھانے پینے سے متعلق بھی انبیا ء کو اور ان کے ذریعہ ان کی امتوں کویہ حکم دیاگیاکہ حلال اور پاکیزہ چیزوں کو کھا،اور نیک اعمال کرو،سورہ مومنون میں ارشاد ہے:
ترجمہ: اے پیغمبرو! تم (اور تمہاری امتیں ) نفیس، پاکیزہ چیزیں کھا اور نیک اعمال کرو اورمیں تم سب کے کیے ہوئے کو خوب جانتا ہوں۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے یہاں حلال روزی کے ساتھ عمل صالح کا ذکر فرمایا ہے، جس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ حلال غذا کا عمل صالح میں بڑا دخل ہے۔ جب انسان کی غذا حلال ہوتی ہے تو نیک اعمال کی توفیق اسے خود بخود ہونے لگتی ہے اور جب غذا ہی حرام ہو تو نیک کام کا ارادہ کرنے کے باوجود بھی اس راہ میں مشکلات حائل ہو جاتی ہیں اور آدمی نیکی سے محروم ہوجاتاہے۔

مزید پڑھیں:  ملکی معیشت کو بہتر حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں،نگران وزیراعظم