درختوں میں عشر کا حکم

درختوں میں عشر کا حکم

سوال – ایک شخص نے بنیت بیع درخت کاشت کئے اور پانچ سال بعد جب وہ بڑے ہوگئے تو ساٹھ ہزار روپے کے عوض فروخت کر دیا، اب ان درختوں میں کیا واجب ہو گا؟ اگر عشر واجب ہوگا تو پانچ سال کا یا جب فروخت کر کے رقم حاصل کی ہے، تو صرف اس رقم کا عشر نکالا جائے گا ؟
جواب۔شرعی نقطہ نظر سے زمین کی اس پیداوار میں عشر واجب ہوتا ہے جس سے آمدنی حاصل کرنا یا پیداوار سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو اور اسی نیت سے اس کو کاشت کیا جائے ، اسی طرح عشر کے وجوب کے لیے حولان حول شرط نہیں بلکہ عشر کا تعلق زمین کی پیداوار کے ساتھ ہے جتنی مرتبہ زمین سے پیداوار حاصل ہو اتنی مرتبہ عشر لازم ہوگا، مسئولہ صورت میں درخت چونکہ بنیت بیع کاشت کے گئے ہیں اس لئے ان پر عشر واجب ہوگا اور چونکہ درخت کی پیداوار صرف ایک ہی مرتبہ حاصل ہوئی ہے اس لئے عشر بھی ایک ہی مرتبہ واجب ہوگا، لہٰذا درختوں کو فروخت کر کے پر قسم حاصل کی گئی ہے صرف اسی رقم سے عشر نکالا جائے گا، ہر سال کا عشر واجب نہ ہوگا ۔
نوٹ: اگر درختوں کو بارانی زمین میں کاشت کرکے سیراب کیا گیا ہو تو عشر واجب ہوگا(یعنی ساٹھ ہزار میں چھ ہزار روپے)اور اگرنہری زمین میں کاشت کرکے سیراب کیا گیا ہو تو کل قیمت کا نصف عشر یعنی بیسواں حصہ (جو ساٹھ ہزار روپے میں تین ہزار روپے بنتے ہیں(واجب ہوگا)
رشتہ سے انکار کرنا
سوال ۔بچی چار پانچ سال عمر کی تھی کہ اس کے والد نے اس کا رشتہ کسی کو دیا اب لڑکی اٹھارہ سال کی ہے اور اس رشتہ سے انکار کرتی ہے جبکہ نکاح نہیں ہوا تھا تو لڑکی کو انکار کا حق حاصل ہے یا نہیں ؟
جواب :جب نکاح نہیں ہوا تو باپ نے گویا رشتہ دینے کاوعدہ کیا ہے لہٰذا لڑکی کوحق حاصل ہے کہ انکار کرے۔
احرام کے بعد عمرہ سے روک دیا جائے
سوال۔ایک شخص نے میقات سے احرام باندھا اور پھر ایک چک پوسٹ پر پولیس والوں نے اسے روک دیا کہ اب عمرہ کی اجازت نہیں ہے تو وہ شخص وہیں سے واپس ہوا اور بغیر ذبح کے (جو حدود حرم میں کرنا چاہیے تھا)احرام کھول دیا اور اس کے بعد جتنے ممنوعات احرام ہیں تقریباً سب کئے ، اور تقریباً (4) سال ہوئے کہ اب تک دم ادا نہیں کیا ہے، برائے کرم اس مسئلہ میں راہنمائی فرمائیں ۔
جواب ۔-واضح رہے کہ اگر کوئی شخص احرام کا لباس پہن کر عمرہ کی نیت کرکے تلبیہ پڑھے پھر کسی عذر کی بناء پر اس کو عمرہ سے روک دیا جائے، ایسے شخص کو شریعت کی اصطلاح میںمحصر کہا جاتا ہے، احصار کا حکم یہ ہے کہ جب تک اس (محصر)کی طرف سے حدود حرم میں قربانی نہ کی جائے اس کے لئے احرام سے نکلنا جائز نہیں ہے ، اور حدود حرم میں ھدی کے ذبح تک وہ محرم شمار ہوگا، اس کے لئے تمام ان امور سے اجتناب لازم ہوگا، جس کا ارتکاب محرم کے لئے جائز نہیں ہے اور آئندہ عمرے کی قضا بھی لازم ہوگی، صورت مسئولہ میں چونکہ ابھی تک اس نے حدودِ حرم میں جانور ذبح نہیں کیا ہے تو یہ شخص ابھی تک محرم کے حکم میں ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے حدود حرم میں ہدی(بکری وغیرہ)ذبح کرے ، اس دوران اس نے جو جنایات کا ارتکاب کیا ہے، ان سب میں تداخل واقع ہو جائے گا ، اور ان سب کی جانب سے صرف ایک دم واجب ہوگا بشرطیکہ اس کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا کہ محصر ہونے کی صورت میں حدود حرم میں جانور ذبح کرنے کے بعد حالت احرام سے نکلنا ہوتا ہے اس سے پہلے نہیں، اور وہ احرام کی چادریں اتار کر اپنے آپ کو حلال سمجھ رہا ہو، اگر اسے مسئلہ معلوم تھا، تو اس صورت میں جنایات میں تداخل نہ ہوگا بلکہ ہرجنایت کے بدلے مستقل دم واجب ہوگا، خلاصہ یہ نکلا کہ صورت مسئولہ میں مسئلہ سے ناواقف شخص جو محض احرام کی چادریں اتارنے پر اپنے آپ کو حلال سمجھ رہا ہو ، اس پر دودم(دم احصار اور دم جنایت) واجب ہونگے اور عمرے کی قضا بھی واجب ہوگی ۔
نوٹ : مسئلہ معلوم ہو جانے کے باوجود اگر اس نے حدود حرم میں کسی کے ذریعہ جانور ذبح نہ کیا۔تو اس کے بعد حالت احرام میں جتنی جنایات کرے گا ، اس کے مابین تداخل نہ ہوگا بلکہ ہر جنایت کے بدلے الگ الگ دم واجب ہوگا (ہندیہ 1:7 ، ص:256,255 رشیدہ ‘ شامی 2:7ص :553ط ‘ سعید ارشاد الساوی ‘ ص;حقانیہ)
واجبات حج
سوال – حج کے کتنے واجبات ہیں ؟
جواب- واجبات حج اصلاً چھ ہیں؟
وقوف مزدلفہ جس کا وقت ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی صبح صادق سے طلوع آفتاب تک کے درمیان ہے؟
(2) صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ۔(3) رمی جمار کرنا ۔
(4) قارن و متمتع کا دم شکر دیتا ۔
(5) حلق یا قصر کرنا ۔
(6) آفاقی کا طواف وداع کرنا ۔
حج کے اصل واجبات کے ساتھ بہت سے واجبات ملحق ہیں، جیسے ممنوعات احرام مثلًا وقوف عرفہ کے بعد جماع کرنے ، سلا ہوا کپڑے پہنتے، سر اور چہرہ کو ڈھانکنے سے بچنا وغیرہ۔
نوٹ ۔ ان تمام ملحقات کو ملاکر واجبات کی تعداد 35 تک پہنچ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:  پاکستان کا عالمی افغان کانفرنس میں شرکت کرنے کا فیصلہ
مزید پڑھیں:  کراچی :کلفٹن کے پارک میں تالاب سے خاتون اور مرد کی نعشیں برآمد

بم دھماکہ میں جاں بحق والوں کا حکم
سوال ۔ بم دھما کہ میں مرنے والے مسلمان شہید کہلائیں گے ؟ ان کو غسل و کفن دیاجائے گا یا نہیں ؟
جواب ۔بم دھما کہ میں مرنے والے شہید ہیں پھر جو فوراً فوت ہوئے ان پر حقیقی شہید کے احکام جاری ہوں گے کہ ان کو غسل نہیں دیا جائے گا اور جسم پر جو لباس ہے اس کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔

اذان کے بعد کتنا وقفہ ہو
سوال۔ نماز سے کتنے منٹس پہلے اذان دینی چاہیے ، نماز مغرب اور دیگر نمازوںکے متعلق بتائیں ، یعنی نماز اور اذان میں وقفہ کی مناسب مقدار کیا ہے ؟
جواب ۔ پانچ وقت کی فرض نماز اور جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے اذان دینا مردوں پر سنت مؤکدہ ہے ، نماز مغرب کے علاوہ باقی نمازوں کی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فصل کرنا مسنون ہے کہ کھانے والا کھانے سے فارغ ہو جائے اور وضو کرنے والا اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے، یا اتنی فصل کرنا جس میں چار رکعت نماز اس طریقہ پر ادا ہو سکتی ہوں کہ ہر رکعت میں دس آیات پڑھ لی جائیں
(تقریباً 15، 20 منٹ) اور مغرب میں صرف تین چھوٹی آیات پڑھنے کی بقدر فصل کرنا مسنون ہے ، اذان اور اقامت کے درمیان فصل کئے بغیر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

صحابی کون ہے
سوال ۔کوئی شخص ایسا ہو کہ جس نے حالت کفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو لیکن ایمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات پا جانے کے بعد لایا ہو تو کیا یہ صحابی ہوگا یا نہیں؟
جواب ۔ محدثین رحمہم اللہ تعالیٰ نے صحابی کی تعریف یہ کی ہے : ” الصحابی من لقی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسؤمنا ومات علی الاسلام(ترجمہ) صحابی وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں حضور سے ملاقات کی ہو اور اسلام کی حالت میں اسے موت آئی ہو، لہذا جو شخص کفر کی حالت میں حضور سے ملا ہو اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایمان لایا ہو، تو یہ صحابی نہیں کہلائے گا بلکہ تابعی کہلائے گا ۔ جیسے حضرت تنوخیجو ھر قل کے قاصد تھے اور تنوخ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ، ان کی ”حمص” مقام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی اور پھر ایمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد لائے تھے ۔