مشرقیات

حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکر غم کا چلا دیا !یوسف علیہ السلام دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑے ہے ،،خوشبو نہیں آنے دی !اگر خوشبو آ گئی تو باپ ے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !اگر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف علیہ السلام کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !یوسف علیہ السلام عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف علیہ السلام کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف علیہ السلام سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا. بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں باہر نہیں آئوں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،، وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف علیہ السلام کے پاس لایا تھا ،، وہی قحط ہانکا کر کے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بے بس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا.فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جائو ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !اب یوسف علیہ السلام نہیں یوسف علیہ السلام کا کرتا مصر سے چلا ہے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں،یعقوب علیہ السلام چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں ” مجھے یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ رہی ھے :سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب رب کی چاہت شامل ہوئی تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !

مزید پڑھیں:  ٹیکسوں میں ردو بدل