میثاق معیشت کی بازگشت

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ چور ڈاکو کے بیانئے نے سیاست تباہ کردی، الیکشن میں عوام نے جو فیصلہ کیا اسے تسلیم کریں گے، حکومت ملی تو جان لڑا دیں گے سب کو مل کر میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر کام کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف پروگرام ہماری مجبوری بن گیا تھا، منتوں کے بعد ہمارا معاہدہ ہوا ہے، ڈیفالٹ کا سوچ کر نیند نہیں آتی تھی، پی ٹی آئی حکومت نے ملک کے چار سال ضائع کئے، ہماری کوششوں سے اب ملک اپنی سمت میں آگیا ہے۔ وزیراعظم نے شرقپور اور لاہور میں تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کابینہ سے بند لفافے کے منظوری لی، خدانخواستہ اس میں کشمیر کا سودا کرنے یا ایٹمی پروگرام سرنڈر کرنے کا لکھا ہوتا توکیا ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے معاشرے میں بدترین تقسیم پیدا کی، اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ عزت کی زندگی گزارنی ہے یا بھکاری کی؟ انہوںنے کہا کہ پاکستان کے 190 ملین پائونڈ برطانیہ کے اکائونٹس میں موجود تھے، یہ پیسہ سٹیٹ بینک آف پاکستان میں آتا تو ٹھیک تھا لیکن وہ پیسہ پاکستان کے خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں چلا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیازی حکومت نے چار سال میں قومی دولت کو لوٹا، بی آر ٹی پشاور، چینی، گندم سکینڈل، مالم جبہ کیس سامنے آئے۔ بلاشبہ غریب آدمی مہنگائی کے ہاتھوں پٹ رہا ہے، میرا بس چلے تو راتوں رات مہنگائی ختم کردوں لیکن یہ الہٰ دین کا چراغ نہیں ہے۔ جادو ٹونے اور پھونکیں مارنے سے مہنگائی ختم نہیں ہوگی، مسلسل محنت سے ختم ہو گی۔ جہاں تک میثاق جمہوریت اور میثاق معشیت کا تعلق ہے تو میثاق جمہوریت آج سے کئی سال پہلے محترمہ بے نظر بھٹو شہید اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان لندن میں منعقدہ مختلف سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں طے پایا تھا اور سیاسی قائدین کی ایک قابل ذکر تعداد نے اس میں اتفاق رائے سے جن نکات پر ملکی سیاست کو چلانے جبکہ آئندہ کیلئے مارشل لاء کا راستہ روکنے کیلئے معاہدہ کیا بعد میں بہت حد تک اس معاہدے پرعملدرآمد بھی کیا گیا۔ اگرچہ ایک آدھ معاملے پر عدم اتفاق کی صورتحال بھی پیدا ہوئی تاہم یہ میثاق جمہوریت معاہدے ہی کا کمال ہے کہ ماضی میں جس طرح دو بڑی جماعتیں لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین سیاسی کشیدگی کا ماحول رہتا تھا اب وہ صورتحال نہیں ہے، لیکن بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ کے اندر کچھ کرداروں نے مبینہ طور پر عدلیہ کے بعض حلقوں کے ساتھ مل کر ملک پر ایک ایسی حکومت مسلط کی جس کیلئے نہ صرف آر ٹی ایس کو بٹھاکر من پسند نتائج حاصل کئے گئے بلکہ ملک کو ترقی پر ڈالنے والی حکومت کے خلاف پانامہ کیس کے اندر اقامہ نکال کر منتخب وزیراعظم کو کسی بلیک لاء ڈکشنری کے اندر سے عجیب و غریب قانونی نکات نکال کر نااہل کیا گیا اور اس کے بعد سی پیک کا جو حشر کیا گیا وہ بھی کوئی ڈھکی چپھی بات نہیں۔ مسلط کی گئی حکومت نے جہاں چور ڈاکو کے بیانئے سے نئی نسل کے اذہان کو زہر آلود خیالات کی آماجگاہ بنایا، سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگاکر طویل قید و بند میں پس زنداں ڈالا جبکہ خود جو لوٹ مار کی داستانیں ”صادق و امین” حکومت کے حوالے سے گردش کرتی رہیں ان کی تحقیقات رکانے کیلئے اقدامات کئے، اب وہی داستانیں دوبارہ سامنے آرہی ہیں جبکہ خود محولہ حکومت کے متعلقین ہی ان بدعنوانیوں، لوٹ مار اور چوری چکاری کے حوالے سے گھر کا بھیدی کی طرز پر گواہیاں دیتے نظر آرہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف نے 190 ملین پائونڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جن دو اہم نکتوں کی جانب توجہ دلائی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہیں یعنی جس طرح محولہ 190 ملین پائونڈ کو ٹھکانے لگانے کیلئے کابینہ کے اندر بند لفافے میں موجود تفصیل پر (ماسوائے ایک دو وزراء کے) باقی وزیروں سے منظوری لی اگر خدانخواستہ (بقول وزیراعظم) اس بند لفافہ میں کشمیر کا سودا یا پھر ایٹمی اثاثوں سے دستبرداری کی دستاویزات ہوتیں تو کیا ہوتا؟ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ رقم جو اصولاً پاکستان کے خزانے یعنی سٹیٹ بینک میں جمع ہوتی تو ٹھیک ہوتا مگر اس کو سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں جمع کرنے کا کیا جواز تھا؟ تاہم اس حوالے سے موجودہ حکومت سے بھی یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ محولہ رقم (جو بلاجواز سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں جمع کرائی گئی) کی سٹیٹ بینک کو واپسی کیلئے موجودہ حکومت نے کیا اقدام کئے؟ کیا سپریم کورٹ میں مختلف مدات میں یعنی جرمانوں وغیرہ کی شکل میں جمع کی جانے والی رقوم قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی جاتیں؟ اگر نہیں تواس کا جواز کیا ہے کیونکہ کسی بھی سطح پر ٹیکسوں وغیرہ کی اکٹھی کی جانے والی رقوم اگر قومی محاصل کے طور پر ایف بی آر کے توسط سے سٹیٹ بینک میں جمع ہوتی ہیں تو اتنی بڑی رقم کیا سپریم کورٹ کی ذاتی ملکیت ہے جس پر عدالت عظمیٰ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ جو ڈیم فنڈ کے نام پر اربوں روپے جمع کئے گئے ہیں ان کو بھی قومی خزانے کے حوالے کیا جانا لازمی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کی اس بات سے اتفاق کئے بناء کوئی چارہ نہیں کہ آنے والی حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر میثاق معشیت پر اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہوگا اور ملک کو ان تمام مشکلات سے نجات دلانا ہوگی جن کا ہمیں سامنا ہے۔ ماضی کے چار سال کے دوران اگرچہ اس وقت کے حزب اختلاف اور موجودہ اتحادی حکومت نے سابق وزیراعظم کو بار ہا میثاق معیشت پر کام کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اس قسم کی پیشکشوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ”این آر او” قرار دیا تھا جس کے نتائج ہم آج بھگت رہے ہیں۔