بلوچستان میں سیلاب

بلوچستان میں سیلاب، 11 افراد جاں بحق، 400 سے زائد مکانات منہدم

ویب ڈیسک: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ ہفتے کے دوران موسلادھار بارش اور سیلاب کے باعث 11 افراد جاں بحق اور 400 سے زائد مکانات منہدم ہوگئے، شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، پلوں کو نقصان پہنچا اور شاہراہیں بند ہوگئیں جس سے صوبے کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ بھی منقطع رہا۔
صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کے حکام نے بتایا کہ پنجگور، خاران اور واشک کے اضلاع بری طرح متاثر ہوئے، ان علاقوں میں زیادہ تر مکانات شدید بارشوں سے تباہ ہو گئے جبکہ ان علاقوں میں چار روز سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، بڑی تعداد میں دیہات کا ضلعی ہیڈ کوارٹر سے رابطہ منقطع ہے اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث پنجگور، واشک، خاران، قلعہ سیف اللہ، پشین، لسبیلہ، حب، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھان، سبی اور بولان میں ڈیمز بھر گئے ہیں، اضافی پانی چھوڑنے کے لیے میرانی، حب اور دیگر ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے جس سے نشیبی علاقوں میں واقع کئی دیہات زیر آب آگئے۔
پی ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے باعث ضلع واشک کے علاقے بسیمہ میں واقع ڈیم ٹوٹ گیا جس سے بڑا علاقہ بری طرح متاثر ہوا، مکانات تباہ اور بڑی تعداد میں خاندان بے گھر ہو گئے۔ پی ڈی ایم اے حکام نے مزید کہا کہ موسلادھار بارش اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو راشن، پینے کا پانی، خیمے اور چادریں فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:  غزہ جنگ بندی معاہدے میں امریکہ پھر ٹانگ اڑانے لگا