الاقصیٰ کانفرنس کے مطالبات

خیبر پختونخوا کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بچوں اور خواتین سمیت بے گناہ افراد کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے فلسطین جانے والے رضا کاروں کو خصوصی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ امت مسلمہ کوفلسطین کی مدد کے لئے آگے بڑھنے کی درخواست کی ہے ‘ پشاور پریس کلب میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان(نورانی گروپ) کے زیر اہتمام الاقصیٰ کانفرنس میں مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیاجائے ‘ فلسطین کی مدد کے لئے ادویات اور اشیائے خوردونوش فراہم کئے جائیں اسی طرح یہاں سے جانے والے رضا کارڈاکٹروں اور دیگر افراد کے لئے مصر کا راستہ کھولنے کی کوشش کی جائے ‘ کانفرنس کے شرکاء نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ پاکستان میں اسرائیل اور یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کیاجائے جبکہ پاکستانی پراڈکٹ کو فروغ دیا جائے ‘ شرکاء نے کہا کہ امت مسلمہ پر جہاد فرض ہو چکا ہے ‘ جہاں تک فلسطین کے متاثرین کی داد رسی کا تعلق ہے اس حوالے سے رضا کار تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کا تعلق ہے ان کے لئے مصر کے راستے رسائی کا بندوبست اگرچہ حکومت کرسکتی ہے لیکن وہاں سے جوخبریں موصول ہو رہی ہیں مصرکی حکومت اس حوالے سے تعاون پرعالمی میڈیا میں سوال اٹھ رہے ہیں ‘ البتہ دیگر راستوں سے وہاں ادویات اور خوراک و پانی کی ترسیل کسی نہ کسی حد تک جاری ہے جس میں تیزی لانے کی ضرورت ہے لیکن یہ بھی عالمی تنظیموں اور خصوصاً اقوام متحدہ کی وساطت سے ہی ممکن ہے جبکہ او آئی سی بھی اس میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ‘ جس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے ‘ امید ہے الاقصیٰ کانفرنس کے مطالبات پرتوجہ دی جائے گی۔

مزید پڑھیں:  پشاور ہائیکورٹ کا صائب فیصلہ اور پانچ مرلہ مکانات