عالمی بنک کا صائب مشورہ

عالمی بنک کی جانب سے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی مخالفت کو اگر عوام کے نقطہ نظر سے دیکھا اور جانچا جائے تو درپیش حالات میں اس کو صائب مشورہ قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے ۔ متبادل کے طور پر لائن لاسز کوکم کرنے پر زور دے کر عالمی بنک نے ”عارضے” کی صحیح تشریح کرتے ہوئے درست سمت کی جانب اشارہ کر دیا ہے ‘ عالمی بنک کے نائب صدر مارٹن ریزر نے پاکستان کے بہتر مستقبل کے حوالے سے عالمی بنک کے پالیسی نوٹ کے اجراء سے متعلق منعقدہ تقریب سے اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی ضرورت نہیں ہے ‘ بلکہ بجلی کے لائن لاسز کو کم کیا جائے ‘ انہوں نے مقامی قرضوں کو موخر کرنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ مقامی قرضے موخر کرانے سے بینکنگ سیکٹر اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے ‘ اس لئے پاکستان کو مقامی قرضے موخر کرانے کے عمل میںمحتاط رہنا ہوگا ‘ عالمی بنک کے نائب صدر نے کہا کہ الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں سے معاشی اصلاحات پر بات چیت ہوئی ہے ‘ معاشی اصلاحات کاعمل جاری رہنا چاہئے ‘ معاشی پالیسیوں پرعمل درآمد ضروری ہے ‘ مارٹن ریزر نے کہا کہ پاکستان کوٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشودوسے تین فیصد تک بڑھانا ہوگا ‘ محض ٹیکس وصولیاں کافی نہیں ‘ اخراجات اور ٹیکس اصلاحات پرمل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ‘ زرعی شعبے کوسہولیات دیئے بغیر ٹیکس ریونیو میں اضافہ مشکل ہوگا جہاں تک بجلی کی قیمتوں میںاضافے کاتعلق ہے سابقہ حکومتوں نے ملک کو چلانے ‘ ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور بیرونی قرضوں کی واپسی کے حوالے سے آسان نسخہ یوٹیلٹی بلز میں مسلسل اضافے سے قومی خزانہ کوبھرنے کی حکمت عملی کی صورت ڈھونڈ رکھا ہے خصوصاً گیس اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کرنے کی جوپالیسی آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کی وصولی کے لئے ”بطور ضامن” اختیار کر رکھی ہے اس کے نتائج پر اگر غور کیاجائے تو اس سے جہاں ایک طرف عوام پر بے پناہ بوجھ پڑ رہا ہے وہاں اس کے منفی نتائج بجلی چوری میں بے دریغ اضافہ کی صورت سامنے آرہے ہیں’ جبکہ ناقص پالیسیوں کی بدولت بجلی کی لائن لاسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس لئے عالمی بنک نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے لائن لاسز کم کرنے پر توجہ کرنے کامشورہ دے کر بالکل درست سمت کی جانب اشارہ کردیا ہے ‘ ملک میں بے روزگاری اور غربت میں اضافے کی وجہ غریب لوگ جب بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے بلوں کی ادائیگی میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ بہ امر مجبوری بجلی چوری کرنے کے لئے کنڈہ کلچر کو فروغ دیتے ہیں ‘ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ مراعات یافتہ طبقات کو ہرمہینے اربوں روپے کی مفت بجلی فراہم کرنے سے بھی قومی خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے اسی طرح خود واپڈا کے لاکھوں ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی سے بھی قومی آمدنی پرمزید بوجھ پڑتا ہے اور اس قضئے کاسب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اندر موجود بعض بدعنوان افراد مبینہ طور پر بڑے اور بااثر افراد کو بجلی چوری کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جس کو بعد میں لائن لاسز کے نام پر یاکنڈہ کلچر کے بہانے باقاعدگی کے ساتھ بل جمع کرانے والوں کے بلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ‘ اور عام عوام کو اوزار کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ‘ اس لئے لائن لاسز پرجب تک قابو نہیں پایا جائے گااور کنڈہ کلچر کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ حل ہونے میں نہیں آئے گا’ تاہم جہاں ایک طرف عالمی بنک کا مشورہ قابل توجہ ہے یعنی بجلی کی قیمتوںمیں مزید اضافہ کرنے کی حکمت کو ترک نہیں کیا جائے گا بجلی چوری رکنے کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو گی جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف جیسے ادارے کو بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جائے گی جو ہر بار قرضے کی نئی قسط فراہم کرنے سے پہلے یوٹیلٹی بلز میں اضافے پر زور دیتا ہے ‘ اور عوام پر بوجھ میں اضافہ ہوتا رہتاہے’ عالمی بنک کے نائب صدرنے دوسرا مسئلہ مقامی قرضوں کے حوالے سے اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ مقامی قرضے موخر کرانے سے بینکنگ سیکٹر اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے یہ بالکل درست بات ہے ملک میں جب تک سرمایہ کاری کووسعت نہیں دی جائے گی ملک ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ صنعتی ‘ تجارتی شعبوں میں بنکوں کی جانب سے جب تک قرضے فراہم نہیں کئے جائیں گے نہ تو محولہ شعبے ترقی کرسکتے ہیں نہ ہی بنکوں کا کاروبار وسعت پذیر ہو سکتاہے ‘ یوں نہ روزگار ترقی کرے گا ‘ نہ بے روزگاری پر قابو پایا جاسکے گا اس لئے بینکنگ سیکٹر میں قرضوںکی سہولت کی فراہمی سے انکار کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جاسکتا ‘سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاشی اصلاحات پر بات چیت کے دوران اس عمل کو جاری رکھنے اور زرعی شعبے کوسہولیات کی فراہمی سے ہی ملکی معیشت میںمثبت اشاریئے مل سکتے ہیں ‘ امید ہے عالمی بنک کے مشوروں پرعمل درآمد کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور بے روزگاری کے خاتمے کی کوئی صورت نکل سکے ۔

مزید پڑھیں:  سیاسی دھند چھٹنے کے امکانات؟