نزلہ زکام، کھانسی وبائی صورت اختیار کر گئے، متاثرہ افراد ایک لاکھ سے متجاوز

پشاور میں وبائی امراض پھوٹ پڑے، نزلہ زکام، کھانسی اور سینے کے امراض کے باعث متاثرہ افراد کیلئے حفاظتی اقدامات ناگزیر قرار دیدیے گئے۔
ویب ڈیسک: پشاور سمیت صوبہ بھر میں وبائی امراض پھوٹ پڑے، نزلہ زکام، کھانسی اور سینہےکے دیگر امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے۔ انفلوئنزا وائرس کے پھیلاؤ پر محکمہ صحت کی جانب سے ایڈوائزری جاری کردی گئی۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونیوالی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 6 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 1 لاکھ 30 ہزار 284 کیسز رپورٹ ہوئے۔
محکمہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں انفلوئنزا کیسز تواتر کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ 28 ہزار 674 کیسز جون میں سامنے آئے۔
ماہرین کی جانب سے کہا جانے لگا ہے کہ جوں جوں سردیاں بڑھتی جائینگی انفلوئنزا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھتا جائیگا، احتیاطی تدابیر بہر صورت اختیار کرنا ہونگی ورنہ یہ خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ماہرین نے عوام کو ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہاتھوں کو صاف رکھیں بار بار صابن سے دھوئیں۔ ایک دوسرے سے میل ملاپ سمیت بند جگہ پر بیٹھنے میں خاص خیال رکھنا چاہئے۔
دوران سفر ماسک استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:  خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں‌ بارش و برفباری، نشیبی علاقے زیرآب