صیہونیوں کا ایک اور جرم ثابت: نوزائدہ بچوں کو بھی نہیں بخشا

ویب ڈیسک: 7 اکتوبر سے جاری حماس اسرائیل جنگ میں جہاں ہزاروں مرد وخواتین اور بچے شہید ہوئے وہاں یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ غزہ کے ہسپتال الناصر میں شیرخوار بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کچھ ہفتے قبل الناصر اسپتال سے اسرائیلی فوج نے ان شیرخوار بچوں کے گھر والوں اور طبی عملے کو اسلحے کے نوک پرزبردستی باہر نکالا اور ان بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں ان شیرخوار بچوں کی موت واقع ہوگئی۔
انسانی حقوق گروپ نے ان پانچ بچوں کے قتل کو صیہونی جارحیت قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں‌بچوں کے النصر ہسپتال کا ایمرجنسی روم دکھایا گیا ہے جس میں‌قبل ازوقت پیدا ہونے والے اُن بچوں کی لاشیں پڑی دکھائی دیں جنہیں اسرائیلی فوج نے وہیں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ فوٹیج میں نوزائدہ بچوں کی گلی ہوئی لاشیں دیکھی گئیں، جن میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق اسرئیلی فوج نے ڈاکٹروں کو قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچوں کو وہاں سے لے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

مزید پڑھیں:  سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ ختم، تفصیلی فیصلہ جاری