نصف عرصہ بیت گیا،بلدیاتی نظام تاحال مفلوج

محمدفہیم: خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات دو سال کی تاخیر کے بعد دو مراحل میں ہوئے، پہلے مرحلے میں تین قبائلی اضلاع کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا جو بلا شبہ اس علاقے کیلئے بہت بڑی بات تھی۔
ایسے میں باجوڑ سے بھی خاتون امیدوار سامنے آگئیں جن کا تعلق مسیحی برادری سے ہے اور قبائلی علاقے سے اقلیتی خاتون امیدوار کا سامنے آنا اس علاقے کی قسمت جاگنے کے مترادف تھا۔
ثناء پرویز نے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر باجوڑ کی تحصیل خار کی ویلج کونسل نمبر تین میر علی قلعہ سے کاغذات جمع کرائے اور بلامقابلہ منتخب ہوگئیں تاہم آج دو سال بعد ثناء پرویز اس بلدیاتی نظام سے اکتا چکی ہیں۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔
ثناء پرویز کے مطابق قبائلی علاقے میں خواتین کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ دو سال ہوگئے تاہم کبھی بھی کونسل اجلاس میں شرکت کیلئے نہیں بلایا گیا۔ انتخابات کے بعد حلف لینے کیلئے جرگہ ہال بلایا گیا اس کے بعد اب تک کسی جمہوری نظام کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
ثناء پرویز کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں قبرستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے اگر اراضی مل جائے تو ہزاروں مسیحی برداری کے افراد کا مسئلہ حل ہوجائے اس وقت جب بھی کسی کے گھر کوئی انتقال کرتا ہے تو مجبورا اسے پشاور، نوشہرہ یا پھر کسی اور ضلع لے جا کر دفنایا جاتا ہے۔
ثناء پرویز کے مطابق مسیحی خواتین کیلئے باجوڑ میں ایک خصوصی ووکیشنل سنٹر ہونا چاہئے۔ فنڈز سے متعلق ثناءپرویز کا کہنا ہے کہ دو سال سے ایک پائی تک نہیں ملی۔
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے انتخابات 19دسمبر 2021کو ہوئے تھے رواں ماہ اسے دو برس مکمل ہوجائینگے۔ اختیارات نہ ملنے کیخلاف صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں نے 19دسمبر کو پشاور میں احتجاج کا اعلان کردیا جبکہ صوبہ بھر میں یوم سیاہ منایا جائیگا۔
بلدیاتی نمائندوں نے احتجاج کیلئے وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے سامنے کے مقا م کا تعین کیا ہے تاہم صوبائی حکومت سے درخواست بھی کی ہے کہ اختیارات اور فنڈز کی فراہمی بروقت یقینی بنا کر اس احتجاج کو روکا جا سکتا ہے۔
صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیئرمین الیکشن کمیشن سے ملاقات کرکے ان سے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی منتقلی کیلئے آرڈیننس کے اجراء کی اجازت لی جائیگی جبکہ نگران وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے ان سے رولز آف بزنس اور فنڈز کے اجراء کی درخواست کی جائیگی۔
صوبہ بھر کے تمام سٹی، تحصیل، ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں کے اجلاس میں احتجاج کرتے ہوئے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائیگا۔
خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کے مطابق ہر کونسل میں تین جنرل کونسلر ہیں جن میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا چیئرمین ہوتا ہے۔ ایک ایک نشست اقلیتی ممبر، خاتون کونسلر، یوتھ کونسلر اور ایک مزدور کسان کیلئے مختص ہے۔ خواتین کی بیشتر نشستوں پر دیہی علاقوں میں کونسلرز نے انتخاب ہی نہیں لڑا جبکہ اقلیت کی نشستیں بھی خالی رہ گئی ہیں۔
پشاور میں پی ٹی آئی کی خاتون کونسلر مسلم تاج کہتی ہیں کہ دو سال میں انہیں نہ تو فنڈز ملے اور نہ ہی اختیار۔ مسلم تاج ماضی میں بھی بلدیاتی نظام کا حصہ رہ چکی ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک سال سے نگران ہے دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے تو فنڈز موجود ہیں لیکن بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز نہیں دئے جارہے ہیں خواتین اور دیگر پسے ہوئے طبقات کے مسائل حل کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کی جائے۔
مالی سال 22-2021ء میں بلدیاتی حکومتوں کیلئے 17ارب 40کروڑ روپے، مالی سال 23-2022ء میں بلدیاتی حکومتوں کیلئے 41ارب جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 8ماہ میں بلدیاتی حکومتوں کیلئے 20ارب 66کروڑ روپے سے زائد مختص کئے ہیں تاہم اس میں ایک پائی تک جاری نہیں کی جا سکی ہے۔
نگران حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ اس وقت الیکشن کمیشن کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے اجراء پر پابندی ہے لہٰذا جب تک یہ پابندی برقرار ہے رقم جاری نہیں کی جا سکتی ۔
یاد رہے کہ 19 دسمبر 2021کے بلدیاتی انتخابات سے اب تک بلدیاتی حکومتوں کیلئے 79ارب 6 کروڑ روپے مختص کئے گئے تاہم جاری ایک پائی بھی نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں:  کالام میں بارش اور برفباری کا ریکارڈ، موسم دوبارہ سرد ہو گیا