انتخابات ، عوام اور ان کے مسائل

انتخابات سیاسی نظام میں ایک ایسا عمل ہے جس کی مدد سے سیاسی اداروں کے لیے اہل اور کم اہل کے درمیان چناؤ کیا جاتا ہے یا پھریہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ انتخابی عمل حکومت کرنے کا ایک مختار نامہ ہے ۔ اگر سیاسی ادارے کمزور اور سیاست دان نا اہل ہوں توایسا انتخابی عمل سیاسی استحکام کا سبب نہیں بن سکتا ۔ جن ممالک میں سیاسی ادارے مستحکم اور عوام سیاسی شعور سے بہرہ ور ہیں وہاں انتخابات کا انعقاد سود مند رہتا ہے اور اس کے مثبت نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں اب تک انتخابات کا انعقاد ایک جمہوری نظام کی مجبوری کے تحت یا سابقہ نظام سے چھٹکارہ پانے کے لیے کیا جاتا رہا ہے ، ورنہ عوام کے سیاسی شعور کا عالم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ جمہوری معاشروں میں ووٹ ایک فرد کی رائے کے احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہمارے مُلک میں ووٹ کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ ہم ووٹ کو عزت دینے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن جعلی ووٹ ڈالنے ، پولنگ سٹیشن سے ووٹوں کا ڈبہ اُٹھانے ، ایک دوسرے پر دھندلی کے الزامات لگانے ، نتائج نہ ماننے اور حکومت سازی کے لیے ہر بار مرضی کے نتائج کے اعلانات نے عوام کے مستقبل کو عمیق تاریکی میں غرق کر رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی شرح انتخاب سے متنفر ہے اور ماضی میں ہونے والے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو ووٹ ڈالنے کے تناسب میں تیزی سے کمی واقع ہوتی رہی ہے ۔ کسی بھی ملک میں عوام ایک بہت بڑی طاقت ہے جس کے سامنے حکومت کی طاقت بھی ہتھیار ڈال دیتی ہے ۔ یورپ کے جمہوری تصور کو نظر انداز کر کے اگر اسلامی تصور برائے جمہوریت کی مثال سامنے رکھیں تو ہر خلیفہ بلا تخصیص رنگ و نسل ، ذات پات ہر فرد کو خلیفہ پر کھلی صحت مند تنقید کی دعوت کا حق دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ہم اپنی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمارے ہاں سیاست و حکومت کی جو مثالیں پیش نظر رہیں وہ آمرانہ طرز حکومت کی تھیں ۔ اسلامی جمہوریت کی کوئی مثال کبھی عملی صورت میں ہمارے سامنے نہ آ سکی ۔ پہلے ادوار کی شہنشا ہیت اور بعد کے ادوار کی غلامی کے سبب ہمیں نہ تو خلافت کا تجربہ ہو سکا اور نہ ہی جمہوریت راس آئی ۔ مستزا د یہ کہ انگریز ہندوستان سے جاتے ہوئے جو نظام حکومت قائم کر گئے وہی ہمارے لیے حتمی طریقہ اقتدار سمجھی گئی ۔ کسی بھی آزاد اور جمہوریت کے دعوے دار مُلک میں عوام کے لیے خوراک ، رہائش ، تعلیم ، روزگار ، تحفظ اور انصاف مہیا کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اگر حکومت اپنے فرائض سے دانستہ غفلت برتتی ہے تو دوسرے لفظوں میں وہ عوام سے دھوکہ دہی کا ارتکاب کر رہی ہے ۔ جمہوری ممالک میں حاکم عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے لہذا عوام اس کا احتساب کرتے ہیں اوردوسری مرتبہ انتخابی عمل میں اسے مکمل طور پہ رد کر تے ہیں ۔ مختلف سماجوں کا مطالعہ اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ جہاں بقائے حیات کے لیے تگ و دو کرنا پڑی وہاں تخریبی طاقتیں ظہور پذیر ہوئیں ۔ انہی طاقتوں کے مقابلے نے انسانی ہمدردی کے جذبات پیدا کیے جو فکری عمل کا سبب بنے ۔ دوسری طرف وہ سماج جہاں بقائے حیات بنیادی مسّلہ نہ تھا وہاں فکری عمل کو پنپنے کا موقع نہ ملا ۔ ہمارے گھر میں جو تماشا ہو رہا ہے اور گھر کے لوگ جن مسائل کا شکار ہیں ، یقینا اس سیاسی تماشے کے پشت پناہ اگرچہ حکمران اور حکومتی مشینری ہے لیکن اس تماشے کو ختم کرنے یا روکنے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ عوام کی بے شعوری اور اپنے حقوق سے نا واقفیت ہے ۔ ایسے مُلک میں جہاں انتخابات کا انعقاد کسی مشکل و مجبوری میں کیا جائے وہاں آئین و دستور کی کیا حرمت ہو سکتی ہے ؟ یہاں جاگیردارانہ کلچر کی روایت پرستانہ اقدار نے سماجی زندگی کے متنوع شعبوں پر نہایت منفی اثرات مرتب کیے ہیں ، اسی باعث علم و شعور سے خوفزدگی ، بالا دست کی خوشنودی ، کمزوروں پر جبر ، قانون شکنی اور اختیارات کے ارتکاز نے سیاسی سماجی اور معاشی پسماندگی پیدا کی ۔ آزادی و خود مختاری کو انسان کا فطری حق نہیں سمجھا جاتا اور اب تو ہر جگہ بنیادی انسانی حقوق کی پا مالی کو اک شعار بنا لیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ پاکستانی معاشرہ اپنے با شعور طبقات میں سیاسی ، سماجی ، معاشی تبدیلیوں کی اُمنگ ، خوشحالی کی اجتماعی عوامی آرزو ، وسائل کی موجودگی جیسے عوامل کے باعث ایسے مثبت امکانات بھی رکھتا ہے جن کو برو ئے کار لانے سے اس کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے ۔ تاہم یہ حقیقت تصریح کی محتاج نہیں کہ کوئی بھی قوم یا معاشرہ قومی شعور کی توانائی کو مجتمع کر کے اجتماعی جد وجہد کے ذریعے ہی اعلیٰ قومی مقاصد حاصل کر سکتا ہے ۔ سیاسی نظام کسی فرد واحد کی کاوشوں سے مستحکم نہیں ہو سکتا ۔ فرد واحد کی نیک نیتی ، دیانت اور فکری موزونیت اس کے ارد گرد ہزاروں افراد کی بد نیتی اور مفاد پرستی کے تلے با آسانی روندی جاتی ہے ۔ ہمارے سیاسی نظام میں سیاستدانوں کے مفادات ، افسر شاہی کے اختیارات ، جاگیرداری نظام ، ریاستی اداروں کی کمزوری ، قانون کی بالا دستی کا فقدان اورمنزل کے تعین میں لا پرواہی راستے کے ایسے پتھر ہیں جنہیں ہٹانا چند افراد کے بس کی بات نہیں ۔ اس سے زیادہ تشویشناک اور قابل رحم حالت ان عوام کی ہے جو اس سیاسی نظام کے تحت اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ۔ عوام میں بھی جو طاقتور ہیں ، وہ اس بگڑے نظام میں اپنے لیے پناہ تلاش کر لیتے ہیں لیکن غریب عوام جن کے پاس نہ طاقت ہے نہ ثروت ، ہر جگہ ذلیل و رسوا ہوتے نظر آتے ہیں ۔ ایک اکثریت کو اہل سیاست نے اپنے قابو میں رکھا ہے اور بہت سے اپنے ذاتی فوائد کو سامنے رکھ کر انتخابات میں ان کے حمایتی بن جاتے ہیں ۔ ہمارا مُلک اپنے قیام کے ساتھ ہی غیر جمہوریت پسند قوتوں کا تختہ مشق بن گیا ، جن کے غیر جمہوری طرز فکر و عمل سے علمی و فکری اور عوامی و جمہوری تحریکوں کو نقصان پہنچا ۔ متفقہ آئین سازی اور عام انتخابات میں بہت تاخیر کی گئی ، مقاصد آزادی کے مفہوم بدل گئے اور آمریت ، استحصال ، غیر انسانی حد تک امتیازات کے نظام کو منبر و محراب سے سندِ جواز عطا کی گئی ۔ ماضی سے لے کر اب تک پاکستانی سیاسی جماعتوں میں جمہوری عمل ، نظریہ اور کوئی سیاسی منشور نہیں بس اس کی قیادت کی حیثیت خاندانی گدی نشینی جیسی رہی ہے ۔ اب پھر انتخابات ہونے والے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ عوامی مسائل کیسے حل ہوں گے ۔

مزید پڑھیں:  اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا