ہر بار کی تکرار

پشاور کے علاقے ورسک روڈ دھماکہ میں افغان گروہ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، بتایا جا رہا ہے کہ متعلقہ گروہ حیات آباد میں ایف سی قافلے پر بھی حملے میں ملوث تھا جس کی کائونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورسک روڈ دھماکہ میں افغان باشندے ملوث ہیں اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے گروہ نے رواں سال حیات آباد میں بھی ایف سی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا تھا، نیٹ ورک کو ٹریس کرنے کے لئے تحقیقات کی جارہی ہیں۔واقعے میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن مشکل امر یہ ہے کہ ہر واقعے کے بعداس طرح کے نقطہ نظرکو رواج بنانے کاعمل بھی درست نہیں ،کسی بھی واقعے کے حوالے سے خود سے ذہن بنا کرتفتیش کرنے سے تحقیقات کی درست سمت متعین نہیں ہو سکتی کسی بھی واقعے کے حوالے سے رائے شواہد اور واقعاتی شہادت کی بنیاد پر ہی قائم کی جانی چاہئے اس کے بعد ہی شکوک وشبہات کااظہار ہونا چاہئے،پولیس اب ہر واقعے اور واردات کو افغان باشندوں سے جوڑنے لگی ہے، شہر میں رہزنی کی ہر واردات اور تخریب کاری کی ہر واردات کے ذمہ دارافغان باشندے ہی نہیں ہو سکتے بلکہ مقامی افراد اورملکی شہریوں کے بھی ملوث ہونے کا بھی پورا پورا امکان موجود ہوتا ہے، بہتر ہوگا کہ پولیس حکام حقیقت پسندانہ اور ٹھوس اقدامات کے بعد ہی کوئی رائے قائم کریںاوردرست سمت میںٹھوس بنیادوں پر تحقیقات کرکے ملزمان تک پہنچیں اور ان کو گرفتار کرکے ان کے اقرار جرم کے بعد ہی اس امر کا تعین کریں کہ واقعے کے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ تھا اور واردات میں کونسے عناصر ملوث تھے۔

مزید پڑھیں:  صوبائی دارالحکومت میں نکاسی آب کا دیرینہ مسئلہ