کبھی آپریشن کبھی خاموشی کیوں؟

غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کے خلاف چند روز کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر گھر گھر ، دکان دکان ، آپریشن دوبارہ شرو ع کئے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے دیکھا جائے تو غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کے خلاف آپریشن سے زیادہ بڑی کامیابی اب تک حاصل نہیں ہوسکی ہے اور رضاکارانہ واپس جانے والوں کی تعداد میں بہت کمی آگئی ہے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد غیرر جسٹرڈ افغان شہری وطن واپس گئے ہیںتاہم اب بھی شہر کے بیشتر علاقوں میں غیر رجسٹرڈ افغان شہری موجود ہیں۔کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کی چھان بین ہنوز باقی ہے پشاور میں سیکورٹی صورتحال کے باعث رشید گڑھی، پہاڑی پورہ ، خزانہ ، فقیر آباد ، افغان کالونی، ریگی سمیت مختلف علاقوں میں رہائش پذیر افراد کی چھان بین شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ غیررجسٹرڈ افغان اس وقت شہر کے مختلف مقامات پر رہائش پذیر اورموجود ہیں جن کی نشاندہی قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی ہے ۔ غیر قانونی مقیم غیر ملکی افراد کی چھان بین اور ان کی نشاندہی کا عمل اتنا طویل نہیں ہونا چاہئے تھا جس طرح اسے طول دی گئی، ہم نے انہی کالموں میں بار بار اس خدشے کا اظہار کیاتھا کہ ہمارے ادارے حسب دستور تسلسل کے ساتھ اس عمل کو پایہ تکمیل کو نہیں پہنچائیں گے اور اسے ادھورا چھوڑ کر ان عناصر کو منتقلی کا موقع دیا جائے گا جودرست ثابت ہوا، جس طرح کی صورتحال درپیش ہے اس کا تقاضا ہے کہ اسے مرحلہ وار بھی نہیں کیا جانا چاہئے تھا بلکہ یکبارگی ہر تھانے کی حدود میں تسلسل کے ساتھ اور پورے پشاور اور اس کے مضافات میں اس وقت تک اس عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت تھی جب تک سارے علاقوں کے حوالے سے اطمینان نہ ہوتا کہ اس کی چھان بین مکمل ہو چکی ہے اور علاقے میں کوئی بھی غیرقانونی غیر ملکی مقیم نہیں۔ اب تک واپس جانے والے خاندان ابتدائی سخت گیری کے آثار دیکھ کرواپس جا چکے اور اگر قرار دیاجائے کہ خیبر پختونخوا کے مقابلے میں دیگر صوبوں کی پولیس نے مؤثر کردار ادا کیا تو غلط نہ ہو گا ،صوبائی دارالحکومت پشاور سے افغان باشندوں کی واپسی جس طرح ہونی چاہئے تھی اس کا عشر عشیربھی نہ ہوا ،ان افراد کی واپسی سے دکان، مارکیٹیں اورکرایہ کے مکانات کافی تعداد میں خالی ہونا چاہئے تھے مگر اس حوالے سے معمولی اونچ نیچ بھی نہیں دیکھی گئی اکا دکا ہی کوئی دکان اورگھر خالی ہوئے ہوں تو وہ کوئی قابل ذکرامر نہیں۔پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے غیر قانونی اثاثوں، کاروباراور جائیدادوں کا سراغ لگانے کی بھی کوئی قابل ذکر رپورٹ سامنے نہیں آئی بلکہ اس حوالے سے توسرے سے سرکاری طور پرکوئی اعدادو شمار ہی جاری نہیں ہوئے جس سے یہ علم ہوتا کہ کتنے اثاثوں اور املاک کا سراغ لگالیا گیا ہے اوران کے خلاف کارروائی ہوئی ہو۔ مشکل امر یہ ہے کہ ہماری حکومتی پالیسی اور اس پر عملدرآمد کی صورتحال میں کبھی ربط اور سنجیدگی نہیں رہی ہے یہی وجہ ہے کہ مفاد عامہ کے کاموں میںبھی حکومت کو کامیابی نہیں ہوئی، افغان باشندوں کی بڑی اکثریت کے املاک اور کاروبار کی پولیس حکام کی جانب سے شراکت کی بنیاد پر سرپرستی نہ ہوتی اور دیگر بااثر افراد کابھی اس میں حصہ نہ ہوتا تو اس طرح کی ناکامی کی نوبت نہ آتی کہ ایک جانب حکومت کی جانب سے کارروائی کا عندیہ دیا گیا اوردوسری جانب ناکامی کی صورت سامنے آئی۔ اس ضمن میں مصلحت اور دیگر عوامل سے بھی صرف نظر ممکن نہیں لیکن وجوہات جو بھی ہوں فیصلہ کرنے کے بعد اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد حکومتی ساکھ اور ملکی وقار کاتقاضا تھا جسے نہ کسی صورت نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی صرف نظر کرنے کی گنجائش ہے۔ بہرحال اب جبکہ ایک اور دور کا عندیہ دیا گیا ہے اس کے باوجود خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے کوئی خوش امیدی وابستہ نہیں کی جا سکتی، جو کچھ پہلے مرحلے میں سامنے آیا دوسرے مرحلے کا انجام بھی اس سے مختلف ہونا مشکل نظرآتا ہے ۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو پھراس عمل کا باقاعدگی کے ساتھ جائزہ لینے اور ہونے والی کارروائیوں سے میڈیا اورعوام کو وقتاً فوقتاً آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے نہ صرف پاکستان کے عوام باخبر ہوں اورسرکاری اداروں کی کارکردگی سامنے آئے بلکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو بھی اس امر کا خدشہ پیدا ہو کہ حکومتی کارروائیاں سنجیدگی کی حامل ہیں اور کسی دن ممکنہ طورپر اس طرح کی کارروائی ان کے خلاف بھی ہو سکتی ہے جب تک اس طرح کی فضا پیدا نہ ہوگی واپسی کے عمل میںتیزی نہیں آئے گی اور حکام کے ڈنگ ٹپائو قسم کے اقدامات لاحاصل اور بے نتیجہ ہی ثابت ہوںگے ۔

مزید پڑھیں:  پیشہ ور گداگروں کی بھرمار