خیبر پختونخوا میں انتخابی ماحول پرسوالیہ نشان!

وفاقی حکومت کی جانب سے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان پر دہشت گرد حملوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے دونوں سیاسی شخصیات کو ملک بھر میں سخت سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن پر اب تک چار سے زائد مرتبہ خودکش حملے ہوئے ہیں اور آئندہ الیکشن میں بھی پشاور ہائی کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق انہیں اور ان کے ساتھیوں کی زندگی کو سخت خطرات کا سامنا ہے اس طرح ایمل ولی خان کی زندگی کو درپیش خطرات کے حوالے سے بھی کئی مرتبہ تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں ان پر حملہ سے متعلق منصوبوں کے سامنے آنے کا انکشاف کیا گیا ہے اس بارے میں گذشتہ روز وزارت داخلہ کی جانب سے دونوں شخصیات کو درپیش جانی خطرات کے پیش نظر تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے اور چاروں صوبوں میں مذکورہ دونوں سیاسی شخصیات کی سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے مراسلہ کے مطابق دونوں شخصیات کو تخریب کاری کا نشانہ بنانے کا خدشہ ہے اس لئے انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لئے اقدامات تجویز کئے جائیں۔ دریں اثناء آئی جی پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات گنڈا پور نے کہا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود الیکشن کے لیے خیبرپختونخوا پولیس مکمل طور پر تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے بعض اضلاع میں چلینجز ہیں، باقی تمام اضلاع میں امن قائم ہے۔وزیرستان اور ڈیرہ اسمعیل خان میں پولیس الرٹ ہے اور آپریشنز بھی جاری ہیں۔وزیر داخلہ کی جانب سے دو سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حوالے سے انتباہی نوٹس کے اجراء سے جہاں خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے وہاں آئی جی خیبر پختونخوا پرامید ہیں کہ ان کی فورس انتخابات میںامن و امان قائم رکھنے کے لئے کمربستہ اور تیار ہے لیکن نگران وزیر اعلیٰ کی جانب سے جو روزانہ کی بنیاد پر دیگر سطحی قسم کے سرکاری کاموں کے حوالے سے تو اجلاس کی صدارت کا شوق فرماتے ہیں لیکن صوبے میں انتخابی ماحول اور انتخاب لڑنے والے امیدواروں کودرپیش خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے کسی اجلاس کے انعقاد اور مشاورت کے ساتھ ساتھ مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے شاید ان کے پاس فرصت نہیں بہرحال نگران حکومت کے سربراہ کی بے اعتنائی کا حفاظتی اقدامات کے ذمہ دار اداروں پر اثر نہیں پڑنا چاہئے اور ان کوباہم مشاورت سے مربوط طور پر پرامن انتخابی ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھانے میںکوئی دقیقہ فروگزشت نہیں کرنا چاہئے ۔ جہاں تک خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے دو سیاسی رہنمائوںکی زندگی کو درپیش خطرات کا سوال ہے بدقسمتی سے ماضی میں بھی ان کو اور ان کی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کے لئے محفوظ ماحول نہ ملنے کایہ دوسرا موقع ہے گزشتہ انتخابات کے موقع پربھی خیبرپختونخوا میںان سیاسی جماعتوں خاص طور پر اے این پی کے امیدواروں کو نشانہ بنایاگیا تھا اور بطور جماعت اسے سیاسی میدان میں خطرات سے بے نیاز ہوکر مقابلے کا موقع نہ ملا اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کو ماضی میں اور حال ہی میں باجوڑ میں جمعیت کے اجتماع کو جس طرح نشانہ بنایا گیا اس سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ ان کی جماعت کے ساتھ کسی دہشت گرد گروپ کی بطور خاص مخاصمت ہے ان حالات میںاب جبکہ وزارت داخلہ کا بھی انتباہی نوٹس آیا ہے ہر دو سیاسی قائدین اور ان کی جماعتوںکے اجتماعات کو بطور خاص محفوظ بنانے کے لئے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہو گی جس کے لئے پولیس کو کسی سیاسی جماعت کے پیچھے لگاکر الجھانے اور تنقید کا نشانہ بنوانے کی بجائے اسے اپنے بنیادی فرض کی ادائیگی کے لئے یکسو بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں ساری سیاسی جماعتوں کو انتخابی مسابقت کا برابر کا میدان ملے وہاں ان کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری میں بھی کوتاہی نہ ہو۔خیبر پختونخوا پولیس کو بطور محکمہ از خود جس دبائو کا سامنا ہے اور جن حالات سے وہ حال ہی میں دو چار ہوئی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں تاہم اطمینان کاحامل امر یہ ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کے اخراج کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے اور دوسری جانب افغان عبوری حکومت کی جانب سے بھی مثبت تعاون کاتاثر بھی راسخ ہور ہا ہے جو خوش آئند اور دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ۔ صوبے میں آٹھ فروری تک جس تندہی کے ساتھ حالات کوقابو میں رکھنے کا تقاضا ہے اس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔

مزید پڑھیں:  عوام کی مشکلات کا بھی کسی کو خیال ہے؟