اقتدار کا فارمولہ طے ۔۔۔مگر؟

بڑی رد وقدح کے بعد بالاخر پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے فارمولہ طے ہو جانے کی خبروں کے بعد سیاسی محاذ پر سکون چھا جانے کو خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ حالیہ انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کوسادہ اکثریت نہ ملنے سے حکومت سازی پر سوال اٹھ رہے تھے ‘ صورتحال میں کئی مرتبہ الٹنے پلٹنے جبکہ دونوں بڑی جماعتوں کے مابین کسی قابل عمل فارمولے پراتفاق و عدم اتفاق کی کیفیت نے معاملات کوکسی کروٹ بیٹھنے دینے میں بھی مشکلات اورالجھاوے کوجنم دیا ‘ دوسری جانب تحریک انصاف کے حمایت یافتہ”آزاد ” امیدواروں کی نسبتاً عددی اکثریت نے بھی حالات کوگنجلک بنا رکھا تھا ‘ تحریک انصاف کے رہنمائوں کا استدلال ہے کہ ان کے حمایت یافتہ اراکین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اگر فارم 45 کے تحت منتخب ہونے والوں کے حق میں نتائج کا اعلان کیا جائے تو وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں ‘ اب اس موقف میں کس قدر وزن ہے ؟ اس حوالے سے بھی صورتحال واضح نہیں ہے کیونکہ سیاسی فضاء میں جعلی فارم 45 کی گونج بھی سنائی دیتی ہے اور دوسرے موقف میں بھی وزن موجود ہے بہرحال اگر اس حوالے سے تحقیقات کا ڈول ڈالا جائے تو حقائق سامنے آسکتے ہیں ‘جبکہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دویا دو سے زیادہ جماعتیں باہم اتحاد واتفاق سے ہی حکومت سازی کے عمل کوکسی منطقی انجام سے دوچار کرسکتی ہیں اور اس ضمن میں پاکستان پیپلزپارٹی ‘نون لیگ ‘ ایم کیو ایم نسبتاً بڑے پارٹنرز کی حیثیت سے گزشتہ کئی روز سے صلاح مشوروں میں مصروف رہنے اور ایک دوسرے کو شرائط پیش کرکے کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے میں مصروف رہنے ‘ مذاکرات میں بعض اوقات تعطل پیدا ہونے اور دوبارہ آمادہ بر گفتگو ہونے کے بعد تازہ ترین خبروں کے مطابق فارمولہ طے ہو جانے کے بعد حکومت سازی کے عمل پرمتفق ہوگئی ہیں جس کے مطابق صدرمملکت کے طور پر آصف علی زرداری جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے نام فائنل کرلئے گئے ہیں ‘ اسی طرح دوسرے عہدوں کے حوالے سے بھی اتفاق پرآمادہ ہوگئی ہیں اورممکن ہے کہ ایک آدھ روزمیں قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے خبر سامنے آجائے جہاں تمام منتخب ارکان قومی اسمبلی حلف برداری کے عمل سے گزریں اوراس کے بعد حکومت سازی کا عمل تکمیل تک پہنچانے کی کارروائیاں شروع ہو جائیں ‘ اس ضمن میں تحریک انصاف کے منتخب ارکان کا طرز عمل کیا ہوگا ‘ جوسنی اتحاد کونسل کے چھتری تلے پناہ لینے پرمجبور ہو گئے ہیں ‘ آیا وہ اسمبلی اجلاس میں جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں ‘ اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہیں ‘ یا پھر کوئی اورموقف اختیار کرتے ہیں جبکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے مابین معاہدہ طے ہوجانے کے باوجود پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا لہجہ اب بھی”مفاہمت ” کے مطابق نہیں لگتا کیونکہ اپنے گزشتہ روز کے بیان میں انہوں نے اپنے موقف پر قائم رہنے اور نون لیگ کو اپنی شرائط پر ووٹ دینے کی بات کی ہے’ اس حوالے سے اپنے چیئرمین کے بیان اور پارٹی کی سطح پر حکومت سازی میں شامل ہونے کے بیانئے میں فرق کی وضاحت پیپلزپارٹی پر لازم ہوجاتی ہے ‘ دونوں جماعتوں کے درمیان رد وقدح اور گومگو کی اس کیفیت کے حوالے سے نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا یہ بیان بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ”سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں ہوتا تو حل موجود ہے”۔ ان کے الفاظ میں پوشیدہ”صورتحال” خاصی الارمنگ ہے جواس بات کی متقاضی ہے کہ سیاسی رہنماء حکومت سازی میں مزید تاخیر سے درگزر کرتے ہوئے باہم اتحاد واتفاق سے آگے بڑھیں کیونکہ آنے والے دور میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاملہ سازی بھی ضروری ہے تاکہ حالات کسی پیچیدگی کا شکار نہ ہو پائیں۔

مزید پڑھیں:  اک نظر ادھربھی