ملکی مفاد سے کھلواڑ

بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا ہے خط چلا گیا ہوگا۔ راولپنڈی اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر ایسے حالات میں ملک کو قرضہ ملا تو قرضہ واپس کون کرے گا؟۔تحریک انصاف ایک بڑی عوامی حمایت رکھنے والی اور نوجوانوں پر مشتمل ایک ایسی جماعت ہے جوتمام تر مشکلات کے باوجود بھی اسمبلیوں میں ا کثریتی جماعت کے طور پر پہنچنے میں کامیاب ہوئی جس کے پاس حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے اسمبلیوں کے اندر اور باہر صلاحیت اور استعداد موجود ہے وہ اس بل بوتے پر ایسی حکمت مرتب کرسکتی ہے جو جمہوری اقدار کے عین مطابق اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہو بجائے اس کے کہ اپنی اس صلاحیت و قوت کو درست انداز میں بروئے کارلانے پر توجہ دیتے پی ٹی آئی کے بانی کا آئی ایم ایف کو موجودہ حکومت کو قرضے کی قسط کے اجراء سے باز رکھنے کے لئے خط لکھنا نو مئی کی طرح ایک اور غلطی ہے جسے ملکی مفادات سے متصادم قرار دینے کی پوری گنجائش موجود ہے ہمارے تئیں بانی پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط لکھ کر ان سے انتخابی نتائج کے آزادانہ آڈٹ کا مطالبہ اور اس کے بعد ہی قرضے کے قسط کی اجراء کرنے کا مطالبہ بلاجواز اور عاجلانہ قدم ہے انہوں نے ایسا کرکے پی ٹی آئی کو مطعون کرنے اور مخالفین کے منہ میں زبان ڈالنے کا عمل دہرایا ہے جس کے وہ عادی اور بار بار اس طرح کے سہو کے مرتکب ہوتے آئے ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کو مبینہ انتخابی دھاندلی اور مینڈیٹ چوری کرنے کے الزامات کو موثر اور قابل توجہ بنانے کے لئے اس طرح کے منفی ہتھکنڈے اختیارکرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور وہ یہ کام کسی بیرون سٹیک ہولڈر اور اس طرح کے ہتھکنڈے کا استعمال کئے بغیر بھی کر سکتے تھے ۔ تحریک انصاف کے قائدین کو جتنا جلد اس امر کا احساس ہو جائے کہ عام انتخابات کے دوران اور بعد میں جو عمل دہرایا گیا ہے اس کو بے اثر بنانے اور اپنی حیثیت کی بحالی کے لئے ایک طویل قانونی اور آئینی جدوجہد کرنی ہو گی جس میں کوئی شارٹ کٹ ممکن نہیں اس دوران بحیثیت جماعت ان کو بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور انتہائی اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت ہو گی ذراسی تعجیل اور عدم احتیاط سے خود پی ٹی آئی کا موقف کمزور اور متاثرہ ہو سکتا ہے ایسے میں یکطرفہ فیصلوں کی بجائے قیادت کو مشاورت اور متین فکری سے کام لینے کی ضرورت ہو گی تاکہ تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد کوئی پالیسی بیان دیا جائے اور ٹھوس موقف اپنایا جائے ایسا کرکے ہی ریاست سے تصادم اور جابرانہ کارروائیوں سے محفوظ رہا جا سکے گا۔ تحریک انصاف گزشتہ دو سالوں کے دوران جن حالات سے گزری ان سے بچنے کے لئے دانشمندانہ فیصلے اور حکمت عملی ناگزیر ہے ۔پاکستانی عوام کے ایک بڑے نمائندے کے طور پر تحریک انصاف کو اہم کردار ادا کرنا ہے اب جبکہ پی ٹی آئی پارلیمان میں واپس آگئی ہے تو ایوان کی ایک بڑی پارلیمانی جماعت کے طور پر حکومت کے فیصلوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات پر تنقید و بحث میں ہی نہیں فیصلہ کرنے میں بھی شریک ہو سکتی ہے اور اس طرح کے معاملات پر بات کرنے کا پارلیمان ہی موزوں فورم ہے ۔پی ٹی آئی کی قیادت کو اس طرح خط لکھ کر خواہ مخواہ کا ہوا کھڑا کرنے کے پارلیمان میں اس معاملے کے زیر بحث آنے کا انتظار کرنا چاہئے تھا ان کو ایوان میں ایسا فیصلہ کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئے جو ملک و قوم کے مفاد میں ہو بہتر ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اس معاملے سے ایوان کے باہر خود کو علیحدہ رکھیں اور آئی ایم ایف کو اپنے جائزے خود لینے اور فیصلے تک پہنچنے دیں تحریک انصاف کو اس طرح کے معاملات کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی بجائے ان حلقوں کے مفادت کی نگرانی و تحفظ کرنے پر متوجہ ہونا چاہئے جس کی ان کو حمایت حاصل ہے ۔ سیاستدانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سیاست کو ملکی مفاد پر مقدم رکھنے کے بالاخر ریاست پر اثرات مرتب ہوں گے اور ان کے غیر محتاط رویئے کے باعث ملک و قوم کو خسران کا سامنا ہو سکتا ہے اس کا جتنا جلد ادراک کرکے اس سے احتراز برتا جائے یہ خود ان کے لئے اور ملک و قوم دونوں کے حق میں بہتر ہو گا۔

مزید پڑھیں:  تجربہ کرکے دیکھیں تو!