میں آج ساری کتابیں جلا کر لوٹ آیا

مرزا غالب نے کہا تھا
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
یہ تو شکر ہے کہ مرزا نوشہ کو دنیا سے گزرے ہوئے صدی سے زیادہ ہو گئے ہیں ‘ وگر نہ جس طرح بھارت میں ہر چیز ‘ ہر مقام ‘ ہر شہر کو ہندوتوا کے پیروکاراپنے نکتہ نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان کو تبدیل کرنے پرتلے بیٹھے ہیں اور کئی شہریوں کے نام تبدیل کرتے پھر رہے ہیں ‘ بنارس کو چنئی ‘ کلکتہ کو کولکتہ وغیرہ وغیرہ تو مرزا جی کی زندگی میں ایسی حرکتیں سامنے آتیں تو انہیں اپنے شعر کا پہلا مصرعہ تبدیل کرتے ہوئے کلکتے کو تبدیل کرتے ہوئے کولکتے بنانا پڑتا ‘ جس سے بحریا وزن کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ‘ اس حوالے سے ہم نے بھی علامہ اقبال کے ایک مشہور زمانہ شعر
نہ سمجھوگے تو مٹ جائو گے اے ہندوستان والو
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
کو اسی تبدیلی والے عمل سے گزارتے ہوئے اس میں ہندوستان کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالتے ہوئے اسے پاکستان کے لفظ سے تبدیل کر دیا ہے’اگرچہ علامہ ہی کے ایک اور شعر کو اس کی اصل شکل میں ہندوستان میں اب بھی گا کر بچوں کو ازبر کرایا جاتا ہے یعنی
چین و عرب ہمارا ‘ ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم ‘ وطن ہے سارا جہاں ہمارا
حضرت علامہ نے عالمی سطح پر اسلامی فکر کو سپین پر حملہ آور ہونے والی مسلمانوں کی ایک مختصر فوج کے سپہ سالار طارق بن زیاد کی کشتیاں نذر آتش کرنے سے پہلے مسلمان سپاہیوں سے خطاب کے ایک کلیدی جملے کو بھی فارسی زبان میں یوں واضح کیا تھا کہ
ہر مُلک ‘ مِلک ماست
کہ مِلکِ خدائے ماست
یعنی ہر وہ وطن جو میرے رب کی زمین پر موجود ہے وہ میری ملکیت ہے ِ بات بہت آگے چلی گئی ،بات جس مسئلے کے حوالے سے کرنی تھی ، اس میں ماضی کے حوالے سے موجود کچھ مثبت یادیں ہیں ، گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے گزشتہ روز ایک گرینڈ بک فیئر سے خطاب کرتے ہوئے جو بات کہی اس کی وجہ سے ہم نے مرزا غالب کے کلکتہ والے شعر کا تذکرہ کرنا ضروری جانا ، گورنر نے کہا کہ ”انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں کتابیں پڑھنے کا شوق کو زندہ رکھنا بہت ضروری ہے ، علم روشنی او روشنی کو کتاب اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشرے میں پھیلانا وقت کی ضرورت ہے ، نوجوانوں کوچاہئے کہ وہ اپنی زندگی کاقیمتی وقت بک ریڈنگ کے لئے ضرور مختص کریں کتاب انسان کی نہ صرف بہترین دوست ہے بلکہ علم کا خزانہ بھی ہیں ، کتب بینی سے انسان کی تحقیقی ، تجزیاتی اور مثبت سوچ پروان چڑھتی ہے۔ گورنر صاحب نے اصولاً توبات سچی کی ہے تاہم اصولی اور عملی کے درمیان جو ایک نازک سی سرحدی پٹی موجود ہے اس میں خلیج دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ، ایک وقت تھا جب مطالعہ کے شوقین حضرات اپنے مطالعہ کے شوق کو پورا کرنے کے لئے کتاب سے جڑے ہوئے تھے ، شہر میں جہاں جگہ جگہ آنہ لائبریریاں قائم تھیں جہاں لوگ جا کر ایک آنہ روز کرائے پر اپنی پسند کی کتابیں حاصل کر لیتے تھے کیونکہ نہ تو ہر شخص کتاب خریدنے کی استطاعت رکھتا تھا نہ وہ گھر میں ذاتی لائبریری رکھنے کا روا دار ہوتا تھا جبکہ پشاور میونسپلٹی (جو آج کیپیٹل میٹرو پولٹین کارپوریشن کہلاتی ہے) کے زیر انتظام شہر کے مختلف علاقوں میں دس سے پندرہ تک ریڈنگ رومز بھی قائم تھے جہاں روانہ کئی مقامی اور قومی اخبارات عام لوگوں کے مطالعے کے لئے رکھ دیئے جاتے اس کے علاوہ میونسپل لائبریری میں نہ جانے کس دور سے کتابیں عام شہریوں کے لئے ممبر شپ کے تحت دستیاب تھیں ، اس لائبریری میں بڑی نایاب کتب بھی موجود تھیں مگر جب سے میونسپل کمیٹی کو اس کی عمارت(جو اب سٹی گرلز کالج کے طور پر استعمال کی جارہی ہے ) سے دیس نکالا دیاگیا ہے یہ بے چاری لائبریری در بہ در ہو چکی ہے ، ایک مدت تک اسے گورگٹھڑی کے ایک سیلن زدہ تہہ خانے میں جا بسایا گیا پھر کچہری گیٹ میں میونسپل کارپوریشن ہی کی ایک عمارت میں تیسری یا شاید چوتھی منزل میں پناہ گزین کیاگیا ، اس وقت ہمارے ہمدم دیرینہ مرحوم شین شوکت بطور لائبریرین اس کی حفاظت حتی المقدور کرتے رہے ، مگر میونسپل ادارے کے منتخب اراکین اس کے وجود کو مٹانے کے درپے تھے ، شین شوکت کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس لائبریری کاکوئی پرسان حال ویسے بھی نہیں رہا تھا اور کروڑوں مالیت کی کتب ادارے کے ایک نائب قاصد کی تحویل میں اپنی فریاد سنا سنا کر حکام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی رہیں مگراب خدا جانے اس کا کیا حال ہے ؟ ہم نے اس کے بعد اس حوالے سے دو چار بار گزارش کی اگر یہ لائبریری میونسپل ادارے پر بوجھ ہے تو اس کی کتب یا تو کسی کالج ، یونیورسٹی کوعطیہ کی جائیں تاکہ طلبہ اور طالبات ان سے کسب فیض کر سکیں اور خاص طور پر ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز ان سے ڈگریوں کے حصول میں مدد لے سکیں ، مگر ہماری یہ گزارشات نقار خانے میں توتی(طوطی) کی صدا کے سوا کچھ بھی نہ تھیں اور صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں ، اتنی قیمتی قدیم کتب کی بربادی کا نوحہ لکھے بھی تو کون؟ کیا گورنر صاحب اس حوالے سے کوئی قدم اٹھا کر اس برباد ہوتی ہوئی لائبریری کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ؟ یا پھراس تاریخی لائبریری کے ساتھ جو حشر ماضی میں میونسپل ادارے کے ہاتھوں ہوا ہے اس پر تو ڈاکٹر راحت اندوری کے الفاظ میں یوں تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ
جہالتوں کے اندھیرے مٹا کے لوٹ آیا
میں آج ساری کتابیں جلا کے لوٹ آیا
ہم نے ماضی کی آنہ لائبریریوں کا تذکرہ ہی کیا ہے ، یہ اس دور کی کہانی ہے جب ابھی نہ انٹرنیٹ ایجاد ہوا تھا ، نہ کمپیوٹر ، نہ سمارٹ فون وغیرہ وغیرہ ، اور ان ایجادات نے لوگوں سے مطالعہ کرنے کی عادت ہی چھین لی ، اب بے شک ا نٹر نیٹ پر صرف ایک کلک پر دنیا بھر کی لائبریریاں آپ کی دسترس میں ہیں مگر جو مزہ اور لطف کتاب ہاتھ میں لے کر مطالعہ کرنے سے ہے وہ جدید ایجادات کے اندر نہیں ہے ، پھر عام ، نیم خواندہ اور کم خواندہ لوگ آن لائن کتابوں سے آسانی کے ساتھ استفادہ نہیں کر سکتے ، اس موقع پراپناہی ایک شعر یاد آگیا کہ
وہی بچپن کے لمحے لوٹ آئیں
ہمارے ہاتھ میں پھر جھنجھنے ہوں
یعنی کاش وہ آنہ لائبریری کا دور پلٹ کر آجائے مطالعے کے شوقین گلیوں میں قائم ان لائبریریوں سے اپنی پسند کی کتابیں کرائے پر حاصل کرکے مطالعے کا شوق پورا کریں ، اپنی علمی پیاس بجھائیں ، کتاب اس وقت بھی عام آدمی کی دسترس میں نہیں تھی یعنی اس دور کے حساب سے مہنگی تھی اور لائبریریوں سے جا کر ایک آنہ روز کرائے پرحاصل کرکے پڑھی جاتی تھی ، کتاب آج بھی مہنگی بلکہ بہت مہنگی ہے اور اب معمولی کتاب بھی دو ڈھائی سو سے کم تو خیر کیاملے گی کم از کم پانچ چھ سو تک جا پہنچی ہے کیونکہ کاغذ ، چھپائی ، بائینڈنگ وغیرہ وغیرہ کے اخراجات ہو شربا حد تک بڑھ چکے ہیں ، اس لئے اب اگر کوئی کتاب کرائے پر لینا چاہئے تو یقینا دس روپے روز سے کم توشاید ہی ملے ، ویسے بھی آج کل تو فقیر بھی دس روپے سے کم لینے پر آمادہ نہیں ہوتا بلکہ زیادہ ہی مانگتا ہے ، بہرحال موجودہ دور میں کتاب کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے ، بقول ساقی فاروقی
یہ کہہ کے ہمیں چھوڑ گئی روشنی اک رات
تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے
اس موقع پر ہم نے دو اہم لائبریریوں کا تذکرہ تو کیا ہی نہیں ، یہ دونوں غیر ملکی لائبریریاں تھیں اور پشاور صدر میں ایک یو ایس آئی ایس(یونائٹیڈ سٹیٹس انفارمیشن سروس) کے تحت ارباب روڈ پرقائم تھی ، جبکہ دوسری ذرا آگے مال روڈ پر برٹش لائبریری کے نام سے موجود تھی ، ان دونوں لائبریریوں سے یونیورسٹی کے طالب علم پیشہ ورانہ تعلیم یعنی میڈیکل ، انجینئرنگ ، آرکیالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں انتہائی مہنگی کتب ممبر شپ کے تحت حاصل کرکے اپنی تعلیم مکمل کرتے ، یہ کتب متعلقہ طالب علموں کو ہر چھ ماہ بعد واپسی اور دوبارہ اجراء کے تحت فراہم کی جاتیں اورانہیں اپنی ڈگریوں کے حصول میں بہت فائدہ ملتا ، مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں جب بھی حکومت کے خلاف یا کسی اور مسئلے پر لوگ احتجاج کرنے نکلتے تو ان کا پہلا نشانہ یہی دو عمارتیں ہوتیں ، تنگ آکر پہلے دونوں ملکوں نے یہاں سے نقل مکانی کرتے ہوئے یونیورسٹی ٹائون کے اندر پناہ لی اور وہاں بھی ان کی حفاظت نہ ہوپائی توبقول شاعر
وہ جوبیچتے تھے دوائے دل
وہ دکان اپنی بڑھا گئے

مزید پڑھیں:  کیا بابے تعینات کرنے سے مسائل حل ہوجائیں گے