یہ ہیں ہمارے غمخوار

قومی اسمبلی کے اجلاس کی تیاریوںکے موقع پر اراکین اسمبلی اور قائمہ چیئرمین بننے پر ان کو جو مراعات ملیں گی اس کی تفصیلات سے کسی طور یہ نہیں لگتا کہ یہ وہ قومی نمائندے ہیں جنہوںنے عوام سے ان کے مسائل و مشکلات کے حل کے وعدے پر ووٹ لیا ہے صرف یہی نہیں سپیکر وڈپٹی سپیکر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر آئینی عہدیداروں کو بھی بھاری مراعات حاصل ہوتے ہیں حکومت میں شامل افراد وزیر اعظم سے لے کر وفاقی وزراء ،مشیروں و معاونین خصوصی و پارلیمانی سیکرٹریوں مراعات کی تفصیلات بھی ہوشربا ہیں صدرمملکت اور چیئرمین سینیٹ وڈپٹی چیئرمین سینیٹ و دیگر آئینی وحکومتی عہدیداروں کی تنخواہوں اور مراعات کو ملا کر اس رقم سے ملک چلایا جا سکتا ہے مگر یہاں عوام کے لئے خزانہ خالی اور خواص کی تعیشات کے لئے کافی رقم موجود ہوتی ہے مستزاد بیورو کریسی اور افسرشاہی کے تعیشات و مراعات کا بھی بوجھ خالی خزانہ ہی سے پورا ہوتا ہے جوکم پڑنے پر آئی ایم ایف سے سخت ترین اوربدترین شرائط پرقرض لی جاتی ہے قوم کے اس طرح کے غم خواروںکی موجودگی میںعوام کے حصے میں توبس اضافی بلوں کا بوجھ اور مختلف قسم کے سرچارج ہی آتے ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ بدترین سیاسی مخالفین بھی حصول مراعات میں پیش پیش ہوتی ہیں جہاں قدم قدر پر ان کو غریب عوام کی یاد ستا رہی ہوتی ہے یہاں آکر ان کی زبانیں بھی گنگ ہو جاتی ہیں تیس ارب روپے سے زائد کے اخراجات سے ہونے والے عام انتخابات کے متنازعہ نتائج اور اس کے نتیجے میں وجودمیں آنے والی اسمبلیاں و حکومت عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں اور نہ ہی سیاسی و معاشی استحکام کازریعہ ہوں تو پھراس نظام پر ہی سوالات اٹھنا اور عوام کی اس سے بیزاری کااظہار فطری امر ہے اس طرح کی صورتحال ہر جماعت اور پارٹی کی حکومت میں رہتی آئی ہے اورایسا ہی ہونا طے ہے صورتحال یہی رہی تو عوام کا اس نظام پررہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا اور ملک میں خدانخواستہ مزیدانتشار اورعوامی بغاوت کا خطرہ بڑھ جائے گاکیا آنے والی حکومت اور اراکین اسمبلی کواس کا احساس ہے اور وہ عوام کے حوالے سے ان سے کئے گئے وعدوں پرپورا اترنے کی سعی کریںگے بظاہر تو مشکل نظرآتاہے بہرحال ان کے خلوص اور مساعی کی حقیقت وقت ہی ثابت کرے گا بہتر ہو گا کہ جملہ اراکین دولت و ایوان کم ازکم اپنی انتخابی تقریروں ہی کو ذہن میں تازہ کرکے حتی المقدور سعی کی زحمت کریں او وہ عوام سے منہ چھپانے کی بجائے کم ازکم عوام سے رابطہ میں ہی رہیں تو یہ بھی غنیمت ہوگی۔
ابھی سے تگ ودو
محکمہ ابتدائی تعلیم خیبرپختو نخوا سمیت دیگر سرکاری محکموں کے افسران ومنتظمین سابق حکومت میں پرکشش عہدوں پر رہنے والے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور دوسرے سرکاری محکموں میں اہم انتظامی پوسٹوں پر تعینات افسران نے متعلقہ حلقوں کے ایم پی ایز سے رابطے شروع کردیئے ہیں ذرائع کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران نگران حکومت کی جانب سے سیاسی وابستگی رکھنے والے زیادہ تر اہم عہدوں پر براجمان افسران کوکھڈے لائن لگادیاگیا تھا پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوامیں تیسری بار حکومت بننے جارہی ہے جس کے پیش نظر پارٹی وابستگی کے پیش نظر بعض افسران نے ابھی سے دوڑ دھوپ شروع کردی ہے کہاجاتا ہے کہ صوبے میں حکومت بننے کے ساتھ ہی محکمہ ابتدائی تعلیم میں نئی تعیناتیوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔تحریک انصاف پر خیبر پختونخوا کے عوام کا تیسری بار بھر پور اعتماد بلکہ پہلے سے بڑھ کر اعتماد کے اظہار کے بعد آنے والی حکومت پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ حکومت کے تمام فیصلے میرٹ اورعوام کے مفاد کو مد نظر رکھ کرکرے لیکن جوصورتحال ہمارے نمائندے نے بیان کی ہے اس صورتحال میںاورماضی کے تجربات کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو یہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے اگرحسب توقع ایسا ہوا تو یہ صوبے کے عوام کے لئے بڑی بدقسمتی ہو گی اور ان کا مایوس ہونا فطری امر ہو گا بنا بریں نامزد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس صورتحال سے بچنے کی ابتداء کابینہ کی تشکیل کے وقت سے ہی کرنا ہو گا اور اچھی حکمرانی کے لئے میرٹ پر فیصلے کرنے ہوںگے رشوت و سفارش پر آنے والوں سے تو توقع ہی نہیں کی جا سکتی کہ وہ میرٹ پر عوام کی خدمت کریں گے ان کے استعداد پر بھی سوال اٹھے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبے کے عوام نے جس طرح پی ٹی آئی پراعتماد کا سہ بارہ اظہار کیا ہے آنے والی حکومت اس اعتماد پر پورا اترے گی اورعوام کو مایوس ہونے نہیں دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:  پاکستان میں'' درآمد وبرآمد'' کا عجب کھیل