”پشاور بھی عجیب شہر ہے ”

پشاور دنیا کے ان قدیم شہروں کی فہرست میں شامل ہے جو ہزاروں برس کی تاریخ میں کئی مرتبہ اجڑا اور بسا مگر پھر بھی زندہ ہے اور یہی پشاور کا کمال ہے کہ یہ زندہ بھی ہے اور باعث زندگی بھی ہے ۔اسے ہر دور میں قبیلوں اور تہذیبوں کا سنگم ہونے کا اعزاز حاصل رہا ۔پشاور کے سولہ دروازوں کابلی گیٹ،آسامائی گیٹ،کچہری گیٹ،ریتی گیٹ،رام پورہ گیٹ،ہشتنگری گیٹ ، لاہوری گیٹ،گنج گیٹ،یکہ توت گیٹ ، کوہاٹی گیٹ،سرکی گیٹ،سرد چاہ گیٹ ، بارزقاں گیٹ ، ڈبگری گیٹ،باجوڑی گیٹ،کا شمار معروف قصہ خوانی بازار سے کیا جائے تو مقامی وغیر مقامی قارئین کی یاداشتیں منطقی ترتیب کے ساتھ تازہ ہو جائیں گے ۔پشاور پاکستان کے اندر اہم شہر کی حیثیت رکھتا ہے اور پشتون ثقافت اور گندھارا آرٹ کا مرکز ہے ۔پشاور کا قدیم نام پرش پورہ یعنی انسانوں کا شہر تھا۔میرے خیال میں پشاور صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاسی،تعلیمی،اور کاروباری اعتبار سے سب سے آگے ہے۔پاکستان میں تعلیم اور طب کے حوالے سے بہترین ادارے مثال کے طور پر پشاور یونیورسٹی ،خیبر میڈیکل کالج،خیبر میڈیکل یونیورسٹی ،اسلامیہ کالج ، ایڈورڈ کالج،لیڈی ریڈنگ ہسپتال جرنیلی ہسپتال ،خیبر ٹیچنگ ہسپتال ، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس وغیرہ پشاور میں قائم ہیں ۔پشاور شہر کا تاریخی گورا قبرستان جو آج ویراں ہے ایک زمانے میں پشاور کے پانچ بڑے سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا تھا ۔شیر شاہ سوری کے دور میں پشاور کی تعمیر نو کی گئی اور دہلی سے کابل تک جاتی جرنیلی سڑک پشاور سے گزاری گئی۔مغل سلطنت کا حصہ بنا تو شہنشاہ اکبر نے اس شہر کا نام تبدیل کر کے پیشوا کردیا اور یہاں وسیع پیمانے پر باغات لگوائے جس سے یہ باغات یا پھولوں کا شہر مشہور ہوگیا ۔1818 میں مہا راجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر کے اسے بعد میں سکھ ریاست میں شامل کرلیا اس کے بعد شہر کا زوال شروع ہوگیا پھر برطانوی راج میں پشاور نے خوب ترقی کی ۔پشاور کو جنوبی ایشیا کے چند سب سے پرانے شہروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں دس ہزار سال قبل کی تہذیب کے آثار پائے جاتے ہیں ۔کوئی وقت تھا پھولوں کے اس شہر پشاور سے ہمارا سارا ملک خوشبوں سے مہک رہا ہوتا تھا بلکہ اردگرد کے پڑوسی ممالک بھی پھول یہاں سے منگوایا کرتے تھے ۔یہ وہی پشاور ہے جس کے بارے میں شہنشاہ بابر نے اپنی سوانح حیات”تزک بابری میں آپنے مشاہدات سپردِ قلم کرتے ہوئے لکھا کہ یہاں تاحد نظر پھول ہی پھول دکھائی دیتے ہیں ۔2007 سے آج تک مجھے یہ شہر قریب سے دیکھنے کا موقع ملا،پھولوں کا خوبصورت شہر پشاور جسے اب پھولوں کا شہر نہیں کہا جاسکتا،یہاں بم دھماکوں کی وجہ سے شہر کا گوشہ گوشہ خون آلود ہو چکا ہے،مختلف مست کر دینے والی خوشبوئوں میں اب بارود کی بو رچ گئی ہے اب یہاں ہر پس منظر دھواں دھواں دکھائی دے رہا ہے ،ہر لمحہ خوف کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔یہاں تعلیمی اداروں میں نوجوان آئیس اور نت نئے ناموں کی منشیات کے عادی ہوچکے ہیں جس کے لئے پشاور کے تمام سرکاری ونجی سکولوں ،کالجز اور جامعات میں منشیات کا ٹیسٹ (ڈوپ ٹیسٹ)کروانے کا بس صرف فیصلہ کیا گیا ہے۔یہاں اقوام سابق والی تمام برائیاں موجود ہیں ۔بے حیائی کا چلن عام ہے،جسم فروشی کا دھندہ عروج پر ہے ،گھناونے جنسی جرائم وجود میں آ چکے ہیں ۔معصوم بچے بھی بداخلاقی سے محفوظ نہیں ،شہر پشاور کے مختلف علاقوں میں منشیات کے عادی گندگی کے ڈھیروں ،فٹ پاتھ،پلوں کے نیچے اور ریل کے پٹری کے آس پاس زندگی گزارتے نظر آتے ہیں ۔ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ملک کے دوسرے صوبوں سے آئے ہیں کیونکہ ان افراد کا کہنا ہے کہ پشاور میں نشہ دیگر شہروں سے سستا مل جاتا ہے۔اس شہر کی کئی قدیم اور تاریخی جگہیں اب بھی گمنام پڑی ہیں ۔بہت سی جگہیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ختم ہو چکی ہیں۔آج کل آلودگی اور آبادی کی گنجانی کی وجہ سے شہر پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ابادی کے علاہ بہت بڑی تعداد میں افغان گاڑیاں بھی شہر سے گزرتی ہیں جس سے شہر کی فضا مزید آلودہ ہو رہی ہے ۔شہر پشاور میں بھکاریوں کی بھی بھر مار ہے ،گداگری کا پیشہ باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے اور شہر کی مختلف شاہراہوں میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ،ان میں خواتین ، بچے ، بوڑھے ، جوان لڑکیاں ،اور معذور افراد بھی شامل ہیں جو شہریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کر تے ہیں ۔کسی نے بچہ گود میں اٹھا رکھا ہوتا ہے تو کوئی بنیائی سے محرومی کا ڈرامہ کر رہا ہے۔بھکاریوں میں مخبوط الحواس بھی ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی منظم گروہ ان سے بھیک منگوا رہا ہے ۔کئی گداگروں نے بچوں کو دکھلاوے کے لیے مرہم پٹی کروا کر رکھی ہے تاکہ لوگ ترس کھائیں اور بھیک دیں۔حکومت نے بھکاریوں کے لیے دارلکفالہ تو بنا رکھا ہے تاہم اس کے باوجود بھکاریوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔انتظامیہ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے ۔اج کل پشاور کے امن وامان کو بھی مختلف چیلنجر کا سامنا ہے ۔پشاور شہر کی ایک نسل ہے کہ جو جگنو کو دیکھتے ،مٹھی میں قید کر کے جوان ہوئی اور آج کی نئی نسل صرف کتابوں اور ویڈیوز میں ہی جگنو کو دیکھ سکتی ہے ۔2018 میں پشاور دنیا کا بارہواں آلودہ ترین شہر رہا،شاید جگنوں کے شہر پشاور میں ناپید ہونے کی بڑی وجہ بھی یہی ہے ۔جگنووں کو سبزہ چاہیے جو بد قسمتی سے شہر پشاور میں اب بہت کم ہوچکا ہے ۔بے پناہ آبادی اور آلودگی کی وجہ سے کئی قسم کے حشرات الارض اور پرندے اب پشاور میں ناپید ہو چکے ہیں ۔اج کل پشاور کے نواحی علاقوں میں سور نما عجیب جانوروں کے جھنڈ نکل آئے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔اس بھرے پرے شہر میں سور کے جھنڈ دیکھ کر ایک شعر ضرور یاد آتا ہے۔مجنون سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے ۔وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے۔اس شہر کی تباہی کے باوجود ہمارے حکمران آج بھی یہ جھوٹا دعوی کر رہے ہیں کہ پشاور کی عظمت رفتہ کو بحال کر یں گے۔میرے خیال میں شہر کی زندگی نئے اور ترقی یافتہ زمانے کا ایک خوبصورت عذاب ہے۔جس کی چکا چوند سے دھوکا کھا کر لوگ اس میں پھنس تو گئے لیکن ان کی ذہنی اور جذباتی رشتے آج بھی اپنے ماضی سے جڑے ہیں۔وہ اس بھرے پرے شہر میں پسری ہوئی تنہائی سے نالاں ہیں اور اس کی مشینی اخلاقیات سے شاکی۔یہ دکھ ہم سب کا دکھ ہے۔بقول شاعر:سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا۔تو چل کے ہم بھی ذرا آپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔ ۔من حیث القوم قرآن وسنت میں مذکور تعلیمات سے روشنی حاصل کرکے ہم نہ صرف قدرتی آفات کا درست تجزیہ کر سکتے ہیں بلکہ ان پر قابو بھی پا سکتے ہیں ۔اللہ کرے شہر پشاور امن آشتی اور بھائی چارے کا گہوارہ بن جائے۔

مزید پڑھیں:  کور کمانڈرز کانفرنس کے اہم فیصلے