کوئی تو کچھ سمجھے خدا کرے

قومی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز و ڈپٹی سپیکرز اور وزرائے اعلیٰ کے انتخابات کا مرحلہ گزشتہ روز مکمل ہوگیا۔ بلوچستان میں پی پی پی کے نامزد وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران ایک ہفتے میں 9 مئی کے بعد درج کئے جانے والے مقدمات ختم کرنے یا پھر سزا کیلئے تیار رہنے کی وارننگ دی۔ صحت کارڈ کی بحالی کی نوید کے ساتھ ارکان اسمبلی میں حلف لیا کہ کرپشن کریں گے نہ کرپشن کرنے دیں گے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے بانی عمران خان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے وزارت عظمیٰ کیلئے امیدوار عمر ایوب خان، سپیکر کے عہدہ کیلئے 91 ووٹ لینے والے عامر ڈوگر اور ڈپٹی سیکر کے عہدے کیلئے 92 ووٹ لینے والے سنی اتحاد کونسل کے جنید اکبر نے دھواں دھار تقاریر کیں۔ جنید اکبر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم مقبوضہ اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔ گزشتنہ روز بھی قومی اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے شدید نعرے بازی کی۔ پختونخوا اسمبلی میں مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے پی ٹی آئی کے ورکروں نے مسلم لیگ (ن)کی خاتون رکن پر تیسرے دن بھی سوقیانہ جملے کسنے، جوتے اور دوسری اشیاء پھینکنے کا کام جاری رکھا۔ پی ٹی آئی کے ورکروں کے بعض جملوں کی وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر اس امر کی تصدیق کردی کہ سیاسی اخلاقیات، رواداری اور جمہوری اقدار اب ماضی کا قصہ ہیں۔ مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے تحریک انصاف کے کارکنان (ن) لیگ کی خاتون رکن اسمبلی کی ”نیلامی” کیلئے جس طرح بولی لگاتے دیکھائی دیئے اس سے اس ”سیاسی تربیت” اور شعور کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں جس کا جادو سوشل میڈیا سے نکل کر گلی محلوں اور منتخب ایوانوں میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے اس پر ستم یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اس شرمناک عمل کا نہ صرف دفاع کرتے دیکھائی دیئے بلکہ اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے جو ”بصیرت بھری” رائے دی اس سے سننے والوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس ”ابتدائے عشق” کے اگلے مرحلہ اس سے بھی زیادہ شرمناک ہوں گے اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاسی عمل کی بجائے نفرتوں، توہین اور تحقیقر کو زندگی سمجھنے والے اس بات سے بے بہرہ ہیں کہ ان رویوں، زبان دانیوں اور سوقیانہ پن کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ بادی النظر میں سنی اتحاد کونسل کی قیادت اور خود پی ٹی آئی سے یہ درخواست بے معنی ہوگی کہ جمہوری عمل سے متصادم رویوں، جملے بازیوں اور ایسے معاملات سے دور رہا جائے جن سے کشیدگی اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو۔ ہماری دانست میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی کو پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خطاب سے سیکھنا چاہیے۔ محمود خان اچکزئی پر ایک عشرے تک پی ٹی آئی کے بانی سربراہ عمران خان تحقیر آمیز جملے ہی نہیں اچھالتے رہے بلکہ ان کے ثقافتی ورثے اور بودوباش کی کنٹینر پر نقلیں اتار کر تمسخر بھی اڑاتے رہے لیکن اسی محمود خان نے گزشتہ روز سپیکر کے انتخاب کے بعد قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران جس اعلیٰ ظرفی اور سیاسی اخلاقیات کا عملی مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ محمود خان اچکزئی کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل (پی ٹی آئی)کے ارکان نے وجد کے عالم میں نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ ڈیسک بجاکر انہیں داد بھی دیتے رہے۔ کاش انہوں نے شعوری طور پر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ ایک سیاسی کارکن کس دانائی کے ساتھ اپنے خطاب اور گفتگو میں وہ الفاظ استعمال کرتا ہے جو اس کے بدترین سیاسی مخالف کے دل پر دستک دیتے اور امید کا دیا ر وشن کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے نومنتخب سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان کو چاہیے کہ اپنی جماعت کی سنٹرل کمیٹی کے مشورے سے محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی میں کی گئی حالیہ تقریر کو اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کی سیاسی تربیت کے لئے بطور نصاب پڑھانے کا سلسلہ شروع کریں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سپیکرز و ڈپٹی سپیکرز اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے انتخابی مرحلوں کی تکمیل کے بعد اتوار کو وزیراعظم کے منصب کیلئے مسلم لیگ (ن)اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار میاں شہباز شریف اور سن یاتحاد کونسل کے عمر ایوب خان کے درمیان مقابلہ ہوگا جبکہ صدارتی انتخابات 9 مارچ کو ہوں گے۔ صدر مملکت کے عہدے کیلئے تادم تحریر پی پی پی اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار سابق صدر مملکت آصف علی زرداری ہیں۔ سنی اتحاد کونسل اس منصب کیلئے امیدوار کے نام پر صلاح مشورے کررہی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق صدر کے عہدے کیلئے سابق سپیکر اسد قیصر بھی امیدوار ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم اور صدر مملکت کے انتخاب کے ساتھ ہی جمہوری نظام کی تکمیل ہوجائے گی اور اگلا مرحلہ سیاسی و معاشی عدم استحکام لوگوں پر مسلط بدترین مسائل کے ساتھ نگران حکومت کے ان غیرقانونی اقدامات اور عوام دشمن فیصلوں کا جائزہ لینا ہوگا جس کی وجہ سے عام شہری کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ نگران حکومت کے دور میں ہوئے بعض فیصلوں اور بالخصوص پٹرولیم، بجلی اور سوئی گیس کی قیمتوں میں اندھادھند اضافوں سے نہ صرف عام شہری بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ آمدنی کے مقابلہ میں زائد اخراجات سے جنم لینے والے تباہ کن عدم توازن کی وجہ سے خط غربت سے نیچے بسنے والوں کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جمہوری نظام کے تسلسل کو قائم رکھنے کیلئے منتخب عہدوں پر انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نئی حکومت کو ان چیلنجز سے عہدہ برآ ہونا ہے۔
منقسم مینڈیٹ کی حامل قومی اسمبلی جس میں ا پوزیشن کے بعض ارکان یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہوں کہ اسمبلی نہیں چلنے دیں گے کیسے عوام کی توقعات پر پورا اترتی ہے یہ بذات خود ایک سوال ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت جہاں سیاسی و معاشی عدم استحکام اور دوسرے مسائل ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سنگین ہوتے جارہے ہیں وہیں سیاسی اختلافات میں تحمل و برداشت کی بجائے نفرت و تحقیر کو اولیت حاصل ہونے سے سماجی تقسیم بھی دن بدن گہری ہوتی جارہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا نئی حکومت ان تمام مسائل و مشکلات سے عہدہ برآ ہوپائے گی یا پھر وہ بھی عدم برداشت کے سرطان میں مبتلا ہوتی ہے؟ خاکم بدہن ایسا ہوا تو نہ صرف جمہوری نظام کی بنیادیں مزید کمزور ہوں گی بلکہ خطرہ یہ ہے کہ اسمبلیوں کے اندر اور باہر متحارب سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان پانی پت کے معرکوں کے سلسلوں کا آغاز نہ ہوجائے۔ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین کے لئے ہر لمحہ امتحان سے عبارت ہے۔ تحمل، تدبر، رواداری اور سماجی اخلاقیات کے ساتھ جموہری اقدار کی پاسداری ہی سے انہونیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اگر سیاسی قیادتوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے فقط ”ہم ہی ہم” کے زعم کو گلے کا ہار بنایا تو غیرجمہوری قوتوں کو عوام کے حق حکمرانی پر وار کرنے میں آسانی رہے گی۔ اندریں حالات ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے اور بات کرنے سے پہلے الفاظ کے چنائو میں احتیاط ہی سے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں:  فیض آباد دھرنا ، نیا پنڈورہ باکس