دہشت گرد ی کی ناکام واردات

خیبرپختونخوا میں وقتاً فوقتاً دھماکوں کے اتنے واقعات ہو چکے ہیں کہ ان کے اعدادوشمار دفتر کھولے بنا ممکن نہیں، اس امر کا تعین بھی مشکل ہے کہ اب تک ہونے والے ان واقعات کی نوعیت کیا تھی ؟خود قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شاید سارے واقعات کا کھوج نہ لگا سکے ہوں ،ایسے میں کسی نئے واقعے کے حوالے سے کوئی اندازہ لگانا بھی مشکل کام ہے ،خیبر پختونخوا میں اس طرح کے واقعات کے پس پردہ عوامل کے حوالے سے بھی کوئی بات وثوق سے اس لئے نہیں کہی جاسکتی کہ یہاں مخصوص حالات اور وقت پر مشکوک قسم کے دھماکوں کا بھی رواج رہا ہے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو جس روز یہ واقعہ پیش آ یا اس روز صوبائی دارالحکومت میں ایک سیاسی احتجاجی جلسہ منعقد ہونا تھا جس سے دیگر اکابرین کے علاؤہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے بھی خطاب کرنا تھا ،ایسے میں ممکنہ طور پر اس کا ہدف حکومتی چھتری تلے جلسہ بھی ہونا ممکن نظر آتا ہے ،اس امر کو تقویت اس لئے بھی ملتی ہے کہ جو دہشت گرد عناصر ماضی میں ہر مشکل وآسان ہدف کو نشانہ بناتے آ ئے ہیں اب انہوں نے اس پالیسی سے رجوع کر لیا ہے اور وہ اب عوامی مقامات کو ہدف نہیں بناتے ،کم از کم اس پالیسی کے اعلان کے بعد چونکہ وہ اس پر کاربند چلے آ رہے ہیں ،بنا بریں اتوار کے واقعے کو رمضان المبارک کی تیاریوں کے سلسلے میں کسی پر ہجوم بازار کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا ،البتہ اگر کوئی اور گروپ اس طرح کے کسی مذموم کوشش میں تھا تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ،اگر یہ واقعہ کسی منظم اور تجربہ کار تخریبی گروپ کی سرگرمی نہ تھی اور واقعی کسی عدم احتیاط اور نا تجربہ کاری کی بنیاد پر بلا منصوبہ دھماکہ ہوا ہے تو پھر حکام کو ممکنہ طور پر کسی کم پختہ کار گروہ کی کارستانی کے امکان کو اولیت کے ساتھ پیش نظر رکھنا چاہیے، اس دھماکے میں ہلاک شدگان کے بارے میں پولیس کو ابتدائی معلومات میں کامیابی ضرور ملی ہوگی ،نیز شدید زخمی دہشت گرد بیان دینے کے قابل ہو تو اس سے مزید معلومات حاصل کرنے کے بعد تحقیقات میں پیش رفت مشکل نہ ہو گی، صورتحال جو بھی ہو اس واقعے اور نئی حکومت کے قیام سے قبل کے واقعات صوبے میں امن و امان کے حوالے سے کوئی نیک شگون نہیں، ان حالات میں جب کہ ایک جانب سیاسی نا آ سودگی کے حامل صورتحال سے بے چینی کی کیفیت ہے وہاں دوسری جانب امن و امان اور مہنگائی سے عوام کی پریشانی تشویش کی بات ہے،یہ صورتحال صوبائی حکومت کیلئے مشکلات کا باعث ایسا چیلنج ہے جس سے نمٹنا کوئی آ سان کام نہیں ،صوبے کی حکومت کو ان حالات میں بامر مجبور ی امن و امان کی صورتحال پر سب سے زیادہ توجہ اور اس کیلئے وسائل بھی مختص کر نے ہوں گے، ایسے میں جہاں صوبائی حکومت کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کیلئے درست سمت میں صحیح اقدامات کی ضرورت ہوگی وہاں وفاق اور وفاقی اداروں کی بھی پوری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور مربوط انداز کی پالیسی اختیار کی جائے ،ضم اضلاع اور دہشت گرد ی کے شکار متاثرہ علاقوں میں اب بھی صورتحال پر قابو پانے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں جب تک اس میں پوری طرح کامیابی حاصل نہیں ہوتی تب تک اس طرح کے واقعات کے امکانات معدوم نہیں ہوں گے جس کیلئے سیاسی و حکومتی ہر سطح پر مربوط کوششیں ناگریر ہیں۔جس کا تقاضا ہوگا کہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھا جائے اور اس امر کی پیہم سعی کی جائے کہ ہشتگردوں کے صفایا کرنے کے عمل میں کوئی بعد کی کیفیت نہ ہو اور متحدہ کوششوں سے داخلی امن و سلامتی اور استحکام کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، ایسا کرنے کیلئے ضروری ہوگا کہ حکومتی معاملات اور سیاسی اختلافات کو الگ الگ رکھا جائے ،جہاں سیاسی اختلافات ہوں اس کا اظہار مناسب فورم پر ضرور کیا جائے اور جہاں حکومتی اور ملکی معاملات کے تقاضے ہوں وہاں سیاست دان بن کر نہیں ذمہ دار اور عوام کو جواب دہ ہونے کو مدنظر رکھ کر اسے اولیت دی جائے اور ایسے کردار وعمل کا مظاہرہ کیا جائے جو ہم آ ہنگی سے عبارت ہو اور قومی سوچ غالب رہے۔

مزید پڑھیں:  اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہو شیار