افغان باشندوں کے انخلاء کا دوسرا مرحلہ

پاکستان میں طویل عرصے سے مقیم افغان باشندوں کے خلاف اقدامات کا دوسرے مرحلے میں خیبرپختونخوا میں افغان سٹیزن کارڈ ہولڈر افراد کے خلاف 15 اپریل سے آپریشن شروع ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کا ڈیٹا وفاقی حکومت کے پاس ہونے کی وجہ سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد تک رسائی میں مشکلات کا سامنا تھا لیکن اب یہ تمام ڈیٹا صوبوں کو فراہم کر دیا گیا ہے غیر ملکی افراد کے انخلاء کا دوسرا مرحلہ ختم ہونے کے فوری بعد تیسرا مرحلہ شروع کیا جائے گا واضح رہے کہ افغان مہاجرین کو دی جانے والی ڈیڈ لائن 29فروری کو ختم ہو چکی ہے اور حکومت کی جانب سے تاحال افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع نہیں کی گئی ہے اس لئے آپریشن میں کسی قسم کی قانونی اور سفارتی رکائوٹیں موجود نہیں ہوںگی۔پاکستان میں اس وقت بھی غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی کمی نہیں لیکن بہرحال حکام کے مطابق ان کے خلاف آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے دوسرے مرحلے کا پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا رمضان المبارک کے اختتام اور موسم میں بہتری کے بعد افغان باشندوں کی وطن واپسی کے حالات سازگارہوں گے رضا کارانہ طور پر وطن واپسی خود ان کے لئے اور پاکستانی حکام دونوں کے لئے باعزت اور موزوں ہوگا جس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے ان حالات میں افغان باشندوں کا پاکستان میں قیام میں توسیع کا فیصلہ خود ان کے مفاد میں نہیں ہوگا ایک طویل ترین عرصہ گزارنے کے بعد اب حکومت اس نتیجے پر پہنچنے میں حق بجانب ہے کہ اب ان کو مزید مہاجر کا درجہ نہ دیا جائے اس ضمن میں گزشتہ مرحلے میں حکام اور انتظامیہ کی کارکردگی اطمینان بخش رہی تھی اس مرتبہ پہلے کی طرح مشکل کا سامنا اس لئے نہیں ہونا چاہئے کہ اس مرحلے کا ڈیٹا موجود اور دستیاب ہے جب تک اگلامرحلہ شروع نہیں ہوتا ایک مرتبہ پھر غیر قانونی اور بغیر دستاویزات کے حامل مقیم افغان باشندوں کوواپس بھجوانے کی ایک ہلکی سی مشق کرلینی چاہئے تاکہ دوسرے مرحلے کے لئے سنجیدہ پیغام جائے اور اس کی راہ ہموار ہو۔
صوبے کے خزانے پر بڑا بوجھ
ایک ایسے صوبے میں جہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات ہی بمشکل میسر نہیں سکیورٹی کے نام پر بھاری اخراجات صوبے کے خزانے پر بلاوجہ کا بوجھ ہی نہیں پینے کے صاف پانی ، تعلیم ، صحت اور شہری سہولیات سے محروم عوام کے ساتھ بڑی ناانصافی بھی ہے ہمارے نمائندے کے مطابق خیبرپختونخوا میں حکومتی اور سیاسی شخصیات اور ریٹائرڈ افسروں کی سیکیورٹی پر سالانہ ڈیڑھ ارب روپے سے زائد خرچ ہورہے ہیں۔ یہ تمام فنڈز محکمہ خزانہ سے جاری ہوتے ہیں اور ان شخصیات کی مراعات سے اس مقصد کیلئے کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی جارہی۔ سابق وزراء اعلیٰ اور پولیس اور بیوروکریسی کے افسر مفت میں سکیورٹی لے رکھی ہیں۔ یہ سلسلہ کم ہونے کے بجائے ہر سال مزید بڑھ رہا ہے اور اس میں شامل افراد کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے سابق وزرائے اعلیٰ سے سرکاری مراعات کی واپسی کا عندیہ دیاگیا تھا اس وقت انہی کالموں میں یہ گزارش کی گئی تھی کہ صوبے میں سرکاری خزانے سے حاصل ہر قسم کی غیر ضروری مراعات کا خاتمہ ہونا چاہئے نیز مراعات میں اگر کمی کی گنجائش ہو تو اس پر بھی غور ہونا چاہئے جب تک صوبے میں سخت قسم کے فیصلے اور مالی نظم و ضبط کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گااور سرکاری خزانے سے غیر ضروری اخراجات کی ادائیگی ہوتی رہے گی اس وقت تک عوامی امور کم و سائل کی نذر ہوتے رہیں گے ۔ اس ضمن میں حکومتی اور حزب اختلاف کے تمام اراکین کو صوبے کے وسیع تر مفاد میں اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور کرکے باقاعدہ قانون سازی کی جانی چاہئے اور اس پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہئے تاکہ کسی کو بھی ایسی سرکاری مراعات میسر نہ رہیں جو غیر ضروری اور بلاجواز ہوں۔

مزید پڑھیں:  قصے اور کہانی کے پس منظر میں