پاک افغان مذاکرات کی ضرورت

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دھمکی دی ہے کہ اگر طالبان نے حملے بند نہ کئے تو ہم ان کی تجارتی راہداری بند کر دیں گے۔ اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ فروری 2023میں طالبان سے کہا تھا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے احسانات کی وجہ سے کابل کے ہاتھ نہ باندھیں، طالبان ٹی ٹی پی کو اپنے ملک سے حملے نہ کرنے دیں، کالعدم ٹی ٹی پی نے20سالہ جنگ میں طالبان کی مدد کی تھی۔ وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کے احسان کی وجہ سے انہیں پاکستان پر حملوں سے روک نہیں رہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مسلح تصادم نہیں چاہتے، افغانستان میں پانچ سے چھ ہزار ٹی ٹی پی کے کارکن موجود ہیں، لیکن طالبان دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر افغانستان ہمارے ساتھ دشمن جیسا سلوک کرتا ہے تو ہم انہیں تجارتی راہداری کیوں فراہم کریں؟ اور اگر انہوں نے حملے بند نہ کئے تو ہم تجارتی راہداری بند کر دیں گے۔افغانستان میں طالبان حکومت کی آمد کے بعد پاکستان اورافغانستان کے درمیان دہشت گردی اور سرحدی تنازعات یہاں تک کہ جھڑپوں میںبھی اضافہ ہوا دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری و غیر سرکاری طور پر کشیدگی میں کمی لانے کی خواہشات کا تو اظہار کیاگیا پاکستان کے جید علمائے کرام کے وفد نے بھی افغانستان جا کرکشیدگی میں کمی لانے کی سعی کی افغانستان کی جانب سے دو چار مرتبہ ٹی ٹی پی کو کچھ تنبیہی قسم کی ہدایات بھی جاری کی گئیں مگر صورتحال میں بہتری نہ آسکی پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے بعض بڑے واقعات میں افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے گروپوں کوملوث قرار دے کر درون افغانستان فضائی کارروائی بھی کی گئی اور بار بار افغانستان کی حکومت کو اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین اور دوحہ مذاکرات کی روشنی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے مطالبات کئے گئے جس پر بعض افغان حکام نے پاکستان کومشورے دیئے کہ وہ اپنی سرزمین پرانسداد دہشت گری کی ذمہ داریوں پر توجہ دیں بہرحال افغانستان کی جانب سے افسوسناک حد تک عدم تعاون کے اظہار کی بناء پر پاکستان مختلف قسم کے اقدامات پر مجبور ہوا وزیردفاع نے اسی ضمن میں اب تجارتی راہداری بند کرے کی دھمکی دے دی ہے جو دونوں ممالک کے حوالے سے کوئی مثبت اقدام نہیں بلکہ تجارتی راہداری کی بندش سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمدوفت بھی متاثر ہوگی اور دونوں ملکوں میں لوگوں کا روزگار اور کاروبار متاثر ہوگا۔پاکستان کو اس ضمن میں تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑے گا لیکن افغانستان میں خوراک سے لے کر اشیائے خوردنی اور ضروری آمد ورفت سبھی کا دارومدار طورخم اور چمن بارڈر پر ہے جبکہ علاوہ ازیں بھی غلام خان اور دیگر سرحدی راہداریوں پر بھی کسی حد تک تجارت اور آمدوفت ہوتی ہے ایسے میں یہ افغانستان کے لئے نہایت مشکلات کاباعث ہوگا جس سے بچنا ہی بہتر حکمت عملی ہوگی۔ امر واقع یہ ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سنگین مسئلہ ہے لیکن اس سے زیادہ پریشان کن مسئلہ دونوں ممالک کی جانب سے کشیدگی میں کمی لانے کے اقدامات اور روابط کی کمی ہے اس قدر حالات سنگین ہونے کے باوجود کسی ذریعے سے بھی دونوں ملکوں کے درمیان سنجیدہ رابطے کی کوئی سعی نظرنہیں آتی۔پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو اب اس کا بھی پاس نہیں کہ ماضی میں ان کے روابط کیسے رہے ہیں حکومتی سطح پر تعلقات میں اتار چڑھائو کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانوں کی میزبانی کی ہے اور کسی ملک کا دوسرے ملک کے باشندوںکی اتنی تعداد کو نصف صدی تک آزادانہ طور پر بسائے رکھنے کی کوئی مثال موجود نہیں خود طالبان حکومت کے تقریباً تمام اہم رہنما پاکستان میں پناہ اور میزبانی کا لطف اٹھا چکے ہیں اس کے باوجود پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال نہ ہونے دینے اور پاکستان کے دشمنوں کو اپنی سرزمین میں نہ صر ف پناہ دینے بلکہ ان کو سرحدپارمذموم کارروائیوں سے نہ روکنے کا عمل ناقابل برداشت ہے اس ضمن میں افغان حکام کی حکمت عملی اور خدشات ہردو کوسمجھنا مشکل ہے اپنی ماضی کی اتحادی ٹی ٹی پی سے افغان حکومت کی ہمدردی کو سمجھنا مشکل نہیں لیکن اسی طرح ماضی کے سر پرستوں کے خلاف ان کو استعمال نہ ہونے دینے کی ذمہ داری کے تقاضوں کوبھی ان کونظرانداز نہیں کرنا چاہئے افغان حکومت کوٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے احتراز ہے تو کم از کم اس حد تک تو یہ ان کا فرض بنتاہے کہ وہ ان عناصرکو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے اور ان کو پاکستان دشمن ممالک کی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے تو باز رکھے ۔ دونوں ملکوں کو اس سنگین صورتحال کو مزیدبڑھاوا دینے سے اجتناب کرتے ہوئے سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی سنجیدہ سعی کرنی چاہئے تاکہ کسی ایسی مشکل کا سامنا نہ ہو جو دونوں کے لئے مزید مشکلات اور کشیدگی کا باعث بنے۔

مزید پڑھیں:  ملتان ہے کل جہان