قومی سلامتی کا تحفظ

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے کسی دہشتگرد گروپ کو برداشت نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جمہوری ریاست اور امن سے محبت کرنے والا ملک ہے، تاہم پاکستان اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان ڈے پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ایک جمہوری اتحادی حکومت قائم ہو چکی ہے ،ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے اور معاشی استحکام کیلئے یکسوئی سے کام کریں،اس موقع پر صدر زرداری نے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کی ایک بار پھر وضاحت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام بند کرائے اور اسرائیل کو ظالمانہ اقدامات سے روکے جبکہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لے،انہوں نے بھارت کے تمام غیر قانونی اقدامات کی مذمت کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ پاکستان کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جائز جدوجہد میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا،صدر مملکت نے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا،ادھر سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلطان کے ساتھ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتوں میں بھی دو طرفہ اور خصوصاً علاقائی سلامتی اور خطے کی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین دفاع اور سیکورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی،امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے پاکستان میں انتخابات کا عمل مکمل ہوا ہے کچھ دہشتگرد گروپس ایک بار پھر سرگرم ہو چکے ہیں جن کو مبینہ طور پر ملک کے اندر سے بھی سہولت کاری میسر آرہی ہے، جبکہ کچھ بیرونی عناصر بھی اس حوالے سے متحرک ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کر کے پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ کھوئی کرنا ہے،ان دہشتگرد گروپوں کی جانب سے پاکستان کی سرزمین میں سیکورٹی تنصیبات پر حملے کر کے غیر یقینی کی صورتحال کو جنم دینے کی مزموم حرکتوں کو ہمارے سیکورٹی ادارے جس جوانمردی سے روک رہے ہیں وہ ”اظہر من الشمس” ہے ،حالیہ دنوں میں جس طرح دہشتگردی واقعات ہوئے اور جن کو پسپا کرنے اور خودکش حملہ آوروں کو جہنم واصل کرنے میں سیکورٹی افسروں اور اہلکاروں نے مادر وطن پر جانے نچھاور کرنے کے لئے قربانیاں دیں ان پر وطن کے ان سپوتوں کو جس قدر تحسین پیش کی جائے کم ہے ،پاکستان بقول صدر مملکت ایک ذمہ دار جوہری ریاست اور امن سے محبت کرنے والا ملک ہے اور وہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم یہ اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتا کرنے پر تیار نہیں ہو سکتا، عالمی اصولوں کے مطابق جیو اور جینے دو کی پالیسی پاکستان کا مطمع نظر ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی ظلم و جبر کا بازار گرم ہو پاکستان اپنے اصولی مؤقف کے تحت اس کی مخالفت کرتا ہے ،ان دنوں جس طرح غزہ میں اسرائیلی جاریت نے مظلوم فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور وہاں بعض بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے قتل عام جاری ہے اس پر پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے اور وہ عالمی برادری سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی بریت کا نوٹس لے کر اسے فلسطینیوں کی نسل کشی سے روکا جائے ،اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت گزشتہ 70 سال سے جس طرح تنگ انسانیت کھیل جاری رکھے ہوئے ہے اس پر بھی عالمی برادری نہ صرف توجہ دے بلکہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے کا بندوبست کرا کے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرائے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے کیونکہ جس طرح مسئلہ فلسطین وہاں کے ممالک کیلئے ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے اسی طرح مسئلہ کشمیر بھی برصغیر کیلئے فلیش پوائنٹ بن کر خطے میں امن کیلئے سوالیہ نشان بن چکا ہے جو کسی وقت بھی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:  موسمیاتی تغیرات سے معیشتوں کوبڑھتے خطرات