بندر بانٹ

یوم پاکستان کے موقع پر خیبر پختونخوا میں بغیر کسی خدمات اور شہرت کے صرف سیاسی اور پسند وناپسند کی بنیاد پر سرکاری اعزازات کی تقسیم پرتنقید اور اعتراض بے جا نہیں بلکہ اس امر کی طرف درست اشارہ ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ صرف صوبائی سطح پر ہی نہیں ملکی سطح پر بھی ایسے شعبوں اور” شخصیات” کا انتخاب کیاگیا ہے جن کا کوئی کارنامہ اور ملکی خدمات تو درکنار خود وہ شعبہ ہی مضحکہ خیز ہے پھر بھی اگر ملکی و بین الاقوامی سطح کا کوئی کام ہوتا تو بھی ستائش کی گنجائش ہوتی یہاں تو سراسر ایسے افراد کونوازا گیا جن کو سرے سے حقداروں کی فہرست کا حصہ ہی نہیں ہونا چاہئے تھاحیرت انگیز امر یہ ہے کہ کوئی بھی استاد ، انجینئر ، سائنسدان اور ڈاکٹر اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا جس کی وجہ سے ان سرکاری اعزازات کی وقعت ہی ختم ہوگئی ہے جن لوگوں کو اعلیٰ سرکاری اعزازات دئیے گئے ہیں ان میںسے زیادہ ترکو لوگ جانتے بھی نہیں ہیں اور ان کی معاشرے اور ملک وقوم کیلئے کسی قسم کی خدمات نہیں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کو فہرست میں شامل کیا گیا تھا ۔قومی اعزازات کی بندر بانٹ کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا بلکہ کچھ عرصے سے یہ سلسلہ چل نکلا ہے اور سال بہ سال مضحکہ خیز سے مضحکہ خیز صورتحال سامنے آنے لگی ہے جو اخلاقی انحطاط اور اقربا پروری ہی نہیں حکمرانوں کے فیصلوں اور ان کے کردار وعمل اہلیت اور دیانتداری پر بھی سوالیہ نشان ہے اس طرح کے اعزازات پانے والوں کے چہروں سے بھی اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ خود کو اس کا حقدار نہیں سمجھتے ہوں گے۔25 کروڑ عوام کے اس ملک کو بازیچہ اطفال نہ بنایا جائے سول سوسائٹی اور مختلف انجمنوں کو اس بندر بانٹ کے خلاف آوازاٹھانی چاہئے۔

مزید پڑھیں:  ملازمین اور پنشنرز کا استحصال ؟