صوبے میں امن وامان کا مسئلہ ؟

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان پشاور میں ہونے والی ملاقات میں خیبر پختونخوا میں امن و امان سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا ، ملاقات میں بشام میں چینی باشندوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے چینی حکومت اور ہلاک شدگان کے خاندان سے اظہار ہمدردی کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کوکیفر کردار تک پہنچانے اور دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں کچھ عرصے سے دہشت گرد ایک بار پھرسرگرم ہوچکے ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی واردات کر گزرتے ہیں جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف امن و امان کی صورتحال کے لئے خطرات بڑھ جاتے ہیں تو دوسری جانب خصوصاً ہمسایہ اور برادر ملک چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو نشانہ بنا کر چین جسے عظیم برادر کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خراب کرتے ہیں ، جو اہم منصوبوں کی تکمیل میں مصروف ہوتے ہیں یوں ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی جوکوششیں کی جاتی ہیں ان کا مقصد پاکستان کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانا مقصد ہوتا ہے جس کے پیچھے یقینا بعض غیر ملکی ایجنسیوں کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس لئے ان واقعات کی روک تھام کے لئے وفاق اور صوبے کی سطح پر تعاون انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے ایک پیج پرآنے کی خبروں سے عوام میں مثبت پیغام جائے گا ، یہی وقت کی ضرورت ہے ، امید ہے یہ تعاون روز بروز بڑھے گا۔

مزید پڑھیں:  فیض آباد دھرنا ، نیا پنڈورہ باکس