پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کا ذمہ دار کون؟ کیا کوئی امید کی کرن باقی ہے؟

تاریخ کے اوراق پلٹا کر دیکھا جائے تو قوموں کے عروج و زوال کے رازوں سے پردہ اٹھ جاتاہے،مصری فرعونوں ، یونانی بادشاہوں، شہنشایانِ روم، خلفائے اسلام اور مغربی سامراجیت کی شان و منزلت و بربادی کے اسباب میں ایک قدر مشترک ہے اور قوم و رہنماوں کے درمیان اعتماد اور خلوص کا رشتہ ہے، جب جب یہ رشتہ مضبوط رہا ہے، قومیں ترقی اور خوشحالی کی منزلوں کی معراج پر پہنچ گئی ہیں لیکن جب رعایا اور حکمرانوں کا رشتہ ذاتی مفادات کی ترجیحات کے مرض کا شکار ہوا ہے،قوم اوررہنماوئں کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں اور زوال اور بربادی ان کا مقدر بن چکا ہے۔
ان تاریخی حقائق کی روشنی میں پاکستان میں غربت کے طوفان کا جائزہ لیا جائے تواس کی وجوہات تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے جس کے بعد ہم اس کے ممکنہ حل کی طرف عقل کے گھوڑے دوڑانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
شماریات کے جادوگروں کے جائزوں کے تناظرمیں ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح انتالیس اشاریہ چار فیصد ہے جس کی رو سے ملک میں ساڑھے بارہ ملین لوگ سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سطح غربت سے نیچے زندگی سے مراد روٹی،کپڑا، مکان، صحت اور تعلیم سے محرومی ہے۔ یہ تو ظاہری صورتحال ہے جبکہ زمینی حقائق اس سے بھی بدترہیں جس کا اندازہ آپ اپنے ارد گرد قریبی لوگوں کی حالت زار کے مشاہدے سے باآسانی لگا سکتے ہیں۔ صحت کی گرتی ہوئی شرح، بھوک افلاس کا شکارسفید پوشوں کی تعداد میں اضافہ، آمدنی میں کمی اور اخراجات میں بے تحاشا اضافے کے باعث بچوں کی تاریک تعلیمی مستقبل، معیارزندگی میں بڑھتی ہوئی تنزلی، ڈسٹرکشن آف ڈیمانڈ کے باعث کاروباری مندی کا تسلسل، قرضوں کا مسلسل بڑھتا ہوا حجم اورغیر منطقی و غیر سنجیدہ طرز حکمرانی، ہلاکت خیزی کی طرف سفرکا پیش خیمہ ہے۔ تاہم اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو امیدیں باندھنے کے لئے ہمت کو جلا بخشتاہے۔ یہ عکس پکارتا ہے کہ بائیس کروڑسے زیادہ عوام کا یہ ملک پاکستان اپنے سینے میں بیش بہا معدنیات کے خزانے سموئے ہوئے ہے، یہاں کے وسائل سونے، زمرد، کرومائیٹ، کوئلہ،تانبہ،گیس، آئل،پانی،زرخیز مٹی اور مضبوط جسم کے مالک محنت کش، دنیا کے کسی بھی آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔ آبادی میں نوجوانوں کا تناسب اکسٹھ فیصد ہے،سونا اگلتی ہوئی سینتالیس فیصد زرعی زمین جو دنیا کی اڑتیس فیصد اوسط سے کہیں زیادہ ہے، پاکستان کوگندم پیدا کرنے والا دنیا کا ساتواں بڑا ملک بنا دیتی ہے جبکہ چاول کی پیداوار میں اس کا شمار دسویں نمبرپرہے۔ اس کے علاوہ دفاعی اعتبار سے پاکستان کا درجہ دنیا کے ممالک میں نویں نمبرپرہے جو اس کو ناقابل تسخیربنا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ان مسخرکن نعمتوں کے باوجود ہمارا ملک غربت کا شکارہے، عوام بے یقینی کی حالت میں جینے کی ہمت ہار رہے ہیں۔ حکمران کشکول لئے بھیک مانگ رہے ہیں اوراپنے غیرتمند عوام کو بھکاری بنارہے ہیں۔ کیا ہماری ہمیت میں اس ذلت کی گنجائش ہے؟ کیا ہم دنیا کو تہذیب و تمدن سکھانے والے اپنے آباواجداد کا خون اپنے جسموں سے کھنگال چکے ہیں؟ نہیں تو کیا،ہماری حالت زار کوئی سراب ہے اور اگر یہ حقیقت ہے تو آئیے دیکھتے ہیں غلطی کہاں ہو رہی ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی تاریخ کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ سونے کی چڑیا سمجھی جانے والی یہ سرزمین ہمیشہ حملوں کی زد میں رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں مستقل سکونت کا ماحول نہ ہونے کے باعث پائدارمعاشی اور معاشرتی اسٹرکچر نہیں بن پایا ہے۔ انگریزوں نے یہاں کے انتظامی ڈھانچے کو استحصالی اصولوں پر رکھتے ہوئے عام آدمی کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے علاوہ گدی نشینوں کے چنگل میں رکھا۔ عام آدمی اس چکی میں پستا رہا اورغلامی سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی آزادی کے بعد بھی استحصالی نظام میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی اور حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہماری قانون ساز اسمبلیوں میں جاگیرداراور سرمایہ دار براجمان ہیں جوان غربت کی چکی میں پستے ہوئی عوام کے ووٹوں سے منتحب ہوکرآئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس میں بظاہر غلطی عوام کی نظر آتی ہے تاہم گہرائی میں دیکھا جائے تو ایسا نہیں ہے، اس کی اصل وجہ یہاں کا سیاسی نظام ہے،پاکستان کا ڈیموکریٹک ویرینٹ ایسا ہے جس میں عام آدمی کی انٹری ناممکن بنا دی گئی ہے۔ ایلکٹیبلزنے قانون کی کمزور حکمرانی،عوام کی نوکریوں، مقدمات، بنیادی حقوق اورریاستی وسائل کو جادو کی چڑی بناکرووٹرزکو یرغمال بنا کر رکھا ہے تاہم عوام بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اس طرح غربت میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان سماجی اور معاشی خلیج ہے۔اس کے علاوہ عوام کی حالت زار میں ملک کے جغرافیائی وجود کے باعث غیر متوازن دفاعی ضروریات اورخطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے جبرکا بھی بڑا ہاتھ ہے جس کی وجہ سے سیاسی استحکام اور سیاسی شعور پروان نہیں چڑھ پارہا۔
اس صورتحال کا روشن پہلو یہ ہے کہ یہ مسائل قابل حل ہیں اورذرانم ہو توشادابی ایک قدم پر ہے اور وہ اس طرح کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک کا پچاس فیصد رقبہ بنجر اور صحرائی ہے جس کو جدیدٹیکنالوجی کی مدد سے با آسانی قابل کاشت بنایا جا سکتاہے، ساٹھ فیصد محنت کش نوجوانوں کی ہمت مرداں سے اس سرزمین کو سالوں نہیں مہینوں میں جنت نظیر بنانا ناممکنات میں سے نہیں۔ اسی طرح قانون کی حقیقی بالادستی کے قیام پر اگر خلوص نیت سے کام کیا جائے تو معاشرتی اقدارسے معموراور اسلامی روح سے سرشار عوام کو سیاسی مداریوں کے چنگل سے آزاد کرانے میں وقت نہیں لگے گا۔ اس کے ساتھ گریٹ گیم میں حصہ داریوں اور ان کا آلہ کار بننے کے بجائے غیرجانبداری اور اپنی قومی مفادات کو اپنے خداداد وسائل میں تلاش کرنے کا روش اپنایا جائے تو پاکستان میں غربت کا نشان تک مٹ جائے گا۔
آج بھی ہوجو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

مزید پڑھیں:  اک نظر ادھربھی