تیزرفتار معاشرے کے چالاک بچوں کی تربیت

جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے ویسے ویسے معاشرہ بھی تبدیل ہوتا جارہا ہے بدلتے زمانے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی جدت جہاں ایک جانب ا نسانی زندگی کی سہولت اور آسانی کا باعث بنتا ہے وہاں دوسری جانب بگاڑ کے اسباب کی بھی کمی نہیں جس سے خاص طور پر نوجوان نسل میں بگاڑ کی کیفیت و اسباب میں تیزی نظر آتی ہے خرابی اور بگاڑ میں میڈیا اور خا ص طور پر سوشل میڈیاکا کردار بھی کچھ کم نہیں سوشل میڈیا نے تو معاشرے کو بگاڑ کی نئی سمت دی ہے اور اس سمت میں تیزی سے سفر بھی جاری ہے بہرحال یہ ارتقاء کا و ہ عمل ہے جس کے آگے بند باندھنا اور اس کا رخ موڑنا کوئی آسان کام نہیں مشکل امر یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی معاشرتی بگاڑ کا تو رونا روتا ہے لیکن عملی طور پراصلاح کی طرف کوئی متوجہ ہی نہیں عملی قدم اور اصلاح کی سعی تو دور کی بات ہے مشکل امر یہ ہے کہ ہمیں اپنی ذات اور اعمال میں کوئی برائی نظر نہیں آتی اور اگر آبھی جائے تو اس کی توجیہ کرکے خود کو دودھ کے دھلے سمجھنے لگتے ہیں یہ انسانی نفسیات اور کیفیت بھی ہے کہ انسان اپنے بارے میں کم اور دوسروں کے بارے میں زیادہ نقاد ہوتا ہے ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہی یہ ہے کہ ہر ہر عمل کا دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرائیں جب اپنی اصلاح پر ہی نظر نہیں تو معاشرے کے حوالے سے سوچنا اور اس کی اصلاح تو دور کی بات ہے ہم اپنے بارے میں تو انصاف سے کام نہیں لیتے لیکن دوسروں کے بارے میں بہترین جج اور وکیل ہوتے ہیں ہمارے پاس اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کی ہزاروں تاویلیں ہوتی ہیں اور درجنوں دلائل اپنے عمل کے حوالے سے موجود ہوتے ہیں مگر عالم یہ کہ ہمیں اپنے گردن کی شہتیر نظر نہیں آتی مگر دوسروں کی خامیاں ایک نظر میں بھانپ لیتے ہیںمعاشرے کی اصلاح کا واحد کام ہمارے نزدیک دوسرے کو نصیحت رہ گیا ہے مگر اس نصیحت پر خود عمل پیرا ہونا بھول جاتے ہیں جس دن ہمیں اس بات کا ادراک ہوگیا کہ عمل قول سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے اور اس بات کے ہم عملی طور پر قائل ہو گئے کہ معاشرے کی اصلاح اپنی ذات سے شروع ہونی ہے اگر ہم میں سے ہر فرد صرف اپنی ذات کو بہتر بنا کر اصلاح معاشرہ میں حصہ ڈالے تو اس دن سے معاشرہ اصلاح کی راہ پر گامزن ہو جائے گی ۔ اصلاح معاشرہ کی ابتداء اصلاح ذات سے ہونی چاہئے اس کاایک آسان طریقہ یہ ہے کہ جو برائی آپ کودوسروں میں نظر آئے غور کیجئے کہ آیا یہ غلطی کہیں خود آپ میں بھی موجودتو نہیں اگر ایسا ہے تو سب سے پہلے اپنی اصلاح کیجئے کچھ انسانی عادات و اطوار اور خامیاں بہت عام اور قدر مشترک ہیں مثلاً آپ کسی کو جھوٹ بولتے دیکھیں والدین کی نافرمانی کرتے دیکھیں بچوں سے ان کا برتائو مناسب نہ ہو تو بجائے اس کے کہ آپ ان کو لعن طعن کرنے لگ جائیں پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور اگر یہی کچھ خود آپ میں بھی پائی جائے تو اس کو سب سے پہلے دور کرنے پر توجہ دیں معاشرتی اصلاح کے لئے بچوں کی بہترتعلیم و تربیت پر توجہ سب سے زیادہ ضروری ہے یہ اولین قدم ہونا چاہئے بچے بڑوں سے اثر لیتے ہیں بچے کی پرورش میں ماحول کا بہت عمل دخل ہوتا ہے اگر والدین جھوٹ بولیں نمازکی پابندی نہ کریں احکام خداوندی کا خیال نہ رکھیں قوانین و نظم و ضبط کی پاسداری نہ کریں تو بچے خود بخود سیکھ جائیں گے اور آپ ان کو اس سے منع نہیں کر سکتے ہم بعض اوقات جانے انجانے بعض باتوں کو معمولی سمجھ کر نہ صرف خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ بچوں سے بھی جھوٹ بلواتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ جھوٹ معمولی بھی ہو یہ عمل معصوم نہیں ہوتا مثال کے طور پر دروازے پر کوئی آجائے اور ہم ملنا نہ چاہیں تو بچوں سے کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کو کہو کہ ابا گھر پہ نہیں ۔ ظاہر ہے یہ بچہ ماں باپ ہی کے نقش قدم پر چلتا ہے اور ان سے سیکھتا ہے بچہ آس پاس موجود افراد کی فطری طور پر نقل و حرکت کا بغور مشاہدہ کرتا ہے اور پھر انہیں عمل میں لانے کی کوشش کرتا ہے مشاہدے کی بات ہے کہ جس گھر میں والدہ پابندی سے نماز پڑھتی ہو تو رفتہ رفتہ بچے کو بھی یہ عمل متاثر کن لگنے لگتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بچہ خود ہی ماں کے پہلو میں جائے نماز بچھا کر ماں کی طرح قیام رکوع و سجدہ کا عمل بڑی معصومیت سے دہرانے لگتا ہے غیر اختیاری طور پر اس کے ذہن میں نماز کی اہمیت بیٹھ جاتی ہے اور عادت پختہ ہو جاتی ہے اس کے برعکس اگر بدقسمتی سے بچے کو ایسا ماحول میسر آجائے جہاں آس پاس ہر وقت شور و غل چیخ و پکار لڑائی جھگڑے گانا بجانا سگریٹ نوشی اور ڈانس و گانا بجانا جیسا ماحول ہو تو رفتہ رفتہ بچہ بھی یہی عادات و اطوار اختیار کر لیتا ہے ۔ فردمعاشرے سے جو اثر لیتا ہے اس کے اثرات زندگی بھر رہتے ہیں یہ درست ہے کہ آج کا معاشرہ اچھا نہیں لیکن مسئلے کا یہ حل بھی نہیں کہ ہم اپنے بچوں کومعاشرے سے جدا گھر میں قید کر رکھیں ایسا کرنے پر بچوں کی ایک ایسی علیحدہ شخصیت وجود میں آتی ہے کہ پھر وہ معاشرے میں ضم نہیں ہو پاتے بچوں کو معاشرے سے نہیں معاشرے کی خامیوں اور برائیوں سے بچانے پر توجہ دیں ان کو بچوں میں گھل ملنے سے روکا نہیں جا سکتا ان کے عادات و اطوار کی اچھائیوں اور برائیوں سے آگاہ کرکے ان کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے جتن ہوسکتے ہیں کچھ والدین بچوں پر بے جا سختیاں کرنے کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں ایسے والدین کے بچوں میں بغاوت اور سخت ردعمل جنم لیا کرتی ہے جو خود والدین کے لئے ناقابل برداشت بن جاتا ہے بچوں کی تربیت وا صلاح کا بہترین طریقہ والدین کو اخلاق کا نمونہ بن کر دکھانا ہے اور بس۔

مزید پڑھیں:  بجلی چوری۔۔۔ وفاق اور خیبر پختونخوا میں قضیہ ؟