دانش کا فرار

دانش کا ملک سے فرار دیرینہ مسئلہ ہے مشکل معاشی حالات کے باعث اب پاکستان سمیت کئی اس طرح کے ممالک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کی ٹولیوں کی ٹولیاں ملک چھوڑنے لگی ہیں امر واقع یہ ہے کہ معاشی مسائل کی وجہ سے روزگار یا پھر بیرونی ملک مستقل سکونت اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافے نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کے تناظر میں یہ ایک مایوس کن مگر چشم کشا صورتحال ہے مسلسل مختلف شعبوں میں قیمتوں کو بڑھانے کی حکمت عملی نے جہاں مہنگائی میں شدید اضافہ کر دیا ہے وہیں صنعتی اور تجارتی سیکٹر پردبائو کی وجہ سے خاص طور پربرآمداد میں کمی نے صنعتی یونٹس کوبند کرنے کے رجحان میں اضافہ کر دیا ہے جس سے بے روزگاری میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اس صورتحال نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور مستقبل سے مایوس نوجوان اور بے روزگار طبقے نے خود ساختہ جلا وطنی کی راہ اپنانے ہی میں بہتری کے آثار محسوس کرنا شروع کردیئے ہیں اس لئے بیرون ملک روزگار کے متلاشی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔بدقسمتی سے ہماری جملہ سیاسی قیادت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ملک کی معاشی حالت کس ڈگر پر جارہی ہے اور ہمیں کن چینلجز کا سامنا ہے سیاسی جماعتوں کے منشرو میں بے روزگاری سے نمٹنے ‘ ملکی معیشت کو صحیح ڈگر پر لانے اور غربت کا خاتمہ کرنے کے حوالے سے کسی پروگرام کو ترجیح حاصل نہیں ہے اصولی طور پر حکومت ہویا پھر اپوزیشن سب کا مطمع نظر عوام کی فلاح و بہبود بے روزگاری میں کمی اور اس سے جڑے دیگر عوامل یعنی مہنگائی میں کمی ہونا چاہئے مگر یہاں سیاسی انا اور ضد ہی ہر چیز سے اہم بن چکی ہے اس سے آگے دیکھنے کو کوئی تیار ہی نہیں ۔ یہ ایک پریشان کن صورتحال ہے جس کا مکمل حل تو مشکل نظر آتا ہے لیکن کم ازکم جتنا ہو سکے اس کے بقدر تو کوشش کی جائے کہ نوجوان مایوس ہو کر جان کو خطرات میں ڈال کر بھی ترقیافتہ ممالک نکل جانے پر مجبور نہ ہوں۔

مزید پڑھیں:  گندم سکینڈل ۔۔ نگران حکومت کو کلین چٹ؟