تحفظ آئین

کوئٹہ میں اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں اپوزیشن اتحاد نے بلوچستان سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کرکے احتجاجی تحریک کا نام ”تحریک تحفظ آئین ” رکھا ہے”تحریک تحفظ آئین” کے صدر محموداچکزئی ہوں گے۔ ایکشن پلان کے تحت جلسے ہوں گے اجلاس کا بنیادی نکتہ فارم47پر بنی حکومت کوتسلیم نہ کرنا ہے میڈیا سے گفتگو میں میزبان اتحاد اخترمینگل نے کہا کہ اس تحریک کا آغاز 20سال پہلے ہونا چاہئے تھا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، نہ فارم47کی نوبت آتی۔ اس تحریک کوانجام تک پہنچانے کے لئے سیاسی قوتوںاورعوام کااہم رول ہوگا۔ اجلاس میں سربراہ بی این پی اختر مینگل، جماعت اسلامی کے قائم مقام امیرلیاقت بلوچ، ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ راجا ناصر عباس، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا قادری، مرکزی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی عمرایوب خان بھی شریک تھے۔وطن عزیز میں سیاسی عدم استحکام کی جہاں بہت ساری وجوہات اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار اور عام انتخابات میں مداخلت دھاندلی یہاں تک کہ بھاری رقوم لے کر نتائج کی تبدیلی جیسے سنگین عوامل ایک حقیقت ہیں وہاں خود سیاستدانوں کا اس ضمن میں باری باری آلہ کار بننے کا عمل بھی قابل معافی نہیں مشکل امر یہ ہے کہ ملکی سیاست کی تاریخ اس سے عبارت ہے ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا وہ اس سے کہیں کم نظر آتا ہے جس کی ابتداء 2018ء کے انتخابات میں ہوئی ۔2023ء کے انتخابات کے نتائج تو سراسر مذاق بنا دیئے گئے یہاں تک کہ مخالفین کی ہارنے کے باوجود جیت کی گواہی مخالفین نے بھی دی پاکستان تحریک انصاف کی اگر 2018ء میں دستگیری کی گئی تو 2023ء میں اس کی اکثریت اور کامیابی کو بدلنے میں دست قاتل نے کچھ کم حربے استعمال نہیں کئے جہاں تک موجودہ حکومت کے قیام کا تعلق ہے جس حکومت کی بنیاد ہی غیر یقینی اور متنازعہ جیت پر رکھی گئی ہو اور جیتنے والوں کے چہروں پر جیت کی چمک کی بجائے گہری مایوسی نظر آنے کے بعد حکومت سازی کا عمل ہوا ہو ان سے تو توقعات کی عدم وابستگی ویسے ہی فطری امر ہے حکومت سازی کے بعد عہدوں اور اختیارات کی جو صورتحال نظر آتی ہے اس کے بعد سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے جس نام سے جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اس میں حکومت گویا خود بھی ان کی اتحادی نظر آتی ہے ایسے میں اس اتحاد سے نیمے درون نیمے بیروں قسم کی حکومت اور اقتدار کو زیادہ خطرہ نہیںہونا چاہئے اور اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو حکمران خود بھی سود و زیاں سے بالاتر ہونے کا تاثر ہی دیتے نظر نہیں آتے بلکہ گھر کا راستہ معلوم ہونے کا واضح اظہار کرتے ہوئے اس امر کا ا ظہار کرتے ہیں کہ کوئی بھی انہونی ان کے لئے نئی بات نہیں اس ساری صورتحال کا اپوزیشن اتحاد کو بھی بہت حد تک ادراک نظر آتا ہے اپوزیشن اتحاد کے میزبان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان کے صائب اور حقائق پر مبنی ہونے کا تقاضا ہے کہ معاملات کو صرف فارم 45 اور فارم 47 تک محدود نہ کھا جائے بلکہ اس سارے عمل کا راستہ روکنے کا تہیہ کیا جائے جس سے یکے بعد دیگرے سبھی کو واسطہ پڑتا آیا ہے ملک میں حکومت کی تبدیلی کا نکتہ اہم نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس امر کو یقینی بنانے پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہو کہ لڈو کی بساط پر بچھے سانپ اور رسی کا کھیل سیاست و حکومت سے نکال پھینک دیا جائے جس کا تقاضا میثاق سیاست پر غورکرنے اور اس پر آمادگی اور عملی طور پر اس کے لئے پلیٹ فارم کا قیام اور پیشرفت ہے ملک میں سیاسی اتحاد کی تشکیل نئی بات نہیں اصل کام مرض کی تشخیص اور اس کا علاج ہے مرض کی تشخیص مشکل نہیں مرض معلوم ہے صرف اس کا علاج اور مستقل علاج باقی ہے اپوزیشن اتحاد کے میزبان نے جس تحریک کے بیس سال قبل آغاز ہونے کا کہہ رہے ہیں دیر آید درست آیدکے مصداق تاخیر ہی سے سہی مگر اب منزل ہی پر جا کر دم لینے کا عزم اور استقامت کا مظاہرہ کرکے تحریک کو کامیاب بنایا جائے تو ملک میں سیاسی استحکام کے دور کی توقع کی جا سکتی ہے مگر یہ جملہ اہل سیاست کی دانش و خلوص کا امتحان ہوگا۔توقع کی جانی چاہئے کہ نوزائیدہ اتحاد کے پلیٹ فارم پر جس سمت جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیاگیا ہے اس کے مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اولیت دی جائے گی اور سطحی اور وقتی مفادات پر وسیع تر سیاسی استحکام کے لئے جدوجہد کو اولیت دی جائے گی اوراسے نتیجہ ْخیزبنانے میں ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کیا جائے گا۔اتحاد میں شامل جماعتوں کے نمائندوں اور سربراہ سے اس کی بجا طورپر توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی دبائو اور لالچ میں آئے بغیر اپنے مقاصد کے حصول کی سعی میںبلند کرداری کا مظاہرہ کریں گے۔

مزید پڑھیں:  آئی ایم ایف کا شکنجہ