ہر سال عید پر پیش آنے والے حادثات

بدقسمتی سے تقریباً ہر سال حادثات کے باعث عید کی خوشیوں پر افسردگی طاری ہوتی ہے اس مرتبہ بھی خیبر پختونخوا میں ڈوبنے کے افسوسناک واقعات رونما ہوئے جس میں عدم احتیاط اور انتظامیہ کی غفلت دونوں شامل ہیں ۔اخباری اطلاعات کے مطابق چارسدہ میں عید کے دوسرے روز دریا میں سات بچے ڈوب گئے تین بچوں کو زندہ نکالا جا سکا جبکہ چار بچے ڈوب گئے ہیں جبکہ سردریاب کے مقام دریائے کابل میں سولہ سالہ لڑکا ڈوب گیا یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے چار اپریل کوہی دریا میں نہانے پر دس دن کے لئے پابندی عائد کر دی تھی دوسری جانب کنڈ کے مقام پر جب کشتی دریائے کے وسط میںپہنچی تو زیادہ سواریوں کی وجہ سے توازن برقرار نہ رکھ کر الٹ گئی اور کشتی میںسوارتمام افراد ڈوبنے لگے تاہم موقع پر موجود ملاحوں اور غوطہ خوروں نے باقی کو تو بچا لیا لیکن ایک بچی ڈوب گئی اس واقعے کے بعد کنڈ پارک انتظامیہ صوابی نے کنڈ کے مقام سے دریائے کابل کے راستے کنڈ پارک تک کشتیوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کردی جبکہ سیاحوں کو کنڈ پارک کیلئے صوابی جہانگیرہ روڈ، آلہ ڈھیر روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کشتی میں حفاظتی جیکٹ رکھنے کا تو رواج ہی نہیں ملاحوں کو بوسیدہ کشتی چلانے کی اجازت کس نے دی اور انتظامیہ ہر بار کے واقعات کے باوجود اس ضمن میں متحرک کیوں نہیں تھی نیز ڈپٹی کمشنر چارسدہ کے احکامات پر عملدرآمد کی ذمہ داری کیوں نہ نبھائی گئی اور غفلت کا ارتکاب کیوںکیاگیا محولہ واقعات کی تحقیقات اورذمہ داری کاتعین کرتے وقت اور سوالات کو سرفہرست رکھنا چاہئے احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے اور اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالنے کی توقع مہذب اور ذمہ دار معاشرے کے شہریوں ہی سے رکھی جاسکتی ہے بہرحال جس عمر کے طالب علم ڈوبے ہیں اور وہ جس ماحول میں زیر تعلیم رہے وہاں اس طرح کے معاملات پر کم توجہی کسی اچھنبے کی بات نہیں لیکن موقع پر انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں کانہ ہونا اور پابندی کی خلاف ورزی نہ ہونے کویقینی بنانے کے اقدامات نہ ہونے ہی کو اس کی بڑی وجہ قرارد دیا جا سکتا ہے جس کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے جو اقدامات ان واقعات کے بعد اٹھاتے گئے اگر وہی اقدامات اس سے قبل اٹھائے گئے ہوتے اور کم از کم موقع پر صورتحال پر نظر رکھنے کی ذمہ داری کا احساس ہی ہوتا تو اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکتا تھا۔ آئندہ اس طرح کے واقعات کے تدارک کے بارے میں حکومتی محکموں کا اجلاس ہونا چاہئے اور اس ضمن میں قواعد و ضوابط وضع کرکے ان پرعملدرآمد کے یقینی بنانے کے اقدامات ہونے چاہئیں تاکہ آئندہ اس طرح کے افسوسناک واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

مزید پڑھیں:  کوئی اس شہر پشاور سے جدا کیسے ہو؟