صبر و تحمل سے کام لیں

ہزاروں سال کی معلوم تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جن قوموں کی اپنی فوج نہیں ہوتی وہاں دوسروں کی فوج آجاتی ہے۔فوجی خلا کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔قوموں کی مرضی ہے کہ اپنی حفاظت کیلئے مضبوط فوج بنا کے رکھیں یا غیر قوموں کی فوجوں کا غلام بن جائیں۔
انسانوں میں آج بھی ایسے وحشی درندے موجود ہیں۔جو انسانی مال و جان کے تقدس ‘ انسانی وقار اور اقدار پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ امریکہ گذشتہ تین دہائیوں میں چار اسلامی ممالک افغانستان’ عراق’ لیبیا اور شام کو تباہ کر چکا ہے۔اسرائیل نے غزہ کو امریکہ کی آشیر باد اور عملی مدد سے کھنڈر بنا ڈالا۔ ہزاروں عورتیں اور بچے شہید کر دئئے۔ ہزاروں معصوم بچے یتیم ہو گئے ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے آٹھ سو سالہ دور حکومت میں کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی۔کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمان پر ہاتھ اٹھا سکیں۔ لیکن 1923 میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد امت مسلمہ یتیم ہو گئی ہے۔ اور اس سے بھی ذیادہ سر پیٹنے کا مقام یہ ہے۔کہ یہ سب کچھ اپنوں کے ہاتھوں ہوا۔ اب 1923 کے بعد پہلی دفعہ اسلام کے نام پر اور اپنے آئین میں باقاعدہ اسلام پر عمل کرنے کا حلف اٹھانے والی ایٹمی ریاست وجود میں آگئی ہے۔
مشرف نے اپنے ایماندار’ دلیر اور دور اندیش کور کمانڈروں کی مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ کی قرارداد اور امریکہ کے ساتھ ضرورت سے ذیادہ وفاداری دکھائی تو ہمارے کچھ دور اندیش اور بہادر فوجی افسران خاموشی سے متبادل منصوبوں پر عمل کرنے لگے۔ نتیجہ بل کلنٹن’ بش ‘ اوبامہ اور ٹرمپ کا رونا پیٹنا کہ پاکستان نے 33 ارب ڈالر نقد اور جدید ترین اسلحہ ہم سے وصول کیا اور اندر اندر افغان طالبان کا ساتھ دیا۔ان کی اس فریاد میں کافی وزن تھا ۔کیونکہ مشرف اور اس کے دو چار حواریوں کے علاوہ نیچے کے تمام فوجی افسران عالم اسلام اور پاکستان کے دور رس مفادات سے آگاہ تھے اور اپنے کام میں لگ گئے تھے۔ نتیجہ امریکہ کی افغانستان میں تاریخی شکست اور دنیا بھر کی فوجی اکیڈمیوں میں پڑھائی جانے والی نئی تاریخ ہے ۔ انڈیا کے کئی جرنیل بشمول جنرل بخشی اور انڈین میڈیا رو رو کے یہی کوسنے دے رہا تھا کہ پاکستانی جرنیل عین کابل کی فتح کے دن کابل میں کیا کر رہا تھا اور کس کے بلانے پہ گیا تھا۔ کیونکہ اشرف غنی کی حکومت تو ختم ہو گئی تھی اور افغان طالبان کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔تو پاکستانی جرنیل کس کی دعوت پر افغانستان میں موجود تھا ؟ یقینا مشرف اور اس کے کچھ قریبی ساتھیوں سے شروع میں کچھ سٹریٹیجک غلطیاں ہوئیں لیکن اس کی تلافی ہمارے دوسرے بہادر فوجی افسران نے کردی تھی۔ امریکہ سے حاصل کردہ جدید ترین اسلحہ کے بل بوتے پر ہم انڈین پائیلٹ ابھینندن کو اتار کر چائے پلانے اور ایران کو کچھ ضروری اسباق یاد کرانے کے قابل ہوگئے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے مفاد میں مزید بھی کچھ عرصے تک ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھنی پڑیگی۔ تاوقتیکہ وہ اور چین آپس میں ٹکرا کر مفلوج نہ ہو جائیں۔اور ہم اس جنگ میں غیر جانبدار رہ کر امت مسلمہ کی ایک سپر طاقت نہ بن جائیں۔اللہ کی سنت یہی ہے کہ وہ ظالموں کو آپس میں ٹکرا کر مظلوموں کو ان کے پنجے سے آزاد کرا دیتا ہے۔دوسری جنگ عظیم میں جب سامراجی قوتیں آپس میں ٹکرا گئیں تو ان کے پنجے سے کئی مسلمان ممالک آزاد ہو گئے۔
مفتی اعظم پاکستان شیخ القرآن و شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور دوسرے اٹھارہ سو جید علما اپنے پیغام پاکستان کے نام سے جاری کردہ فتوی میں کہ چکے ہیں۔کہ پاکستان کا آئین ایک اسلامی آئین ہے اور اس میں اس بات کی گارنٹی دی گئی ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائیگا۔اس لئے یہ ملک ایک اسلامی ملک ہے۔ اور اس کے کسی بھی ادارے بشمول فوج پر حملہ کرنا حرام ہے۔افراد سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔لیکن اس کی تلافی کیلئے بھی ایک نظام موجود ہے۔جیسا کہ مشرف کے گناہوں کی تلافی پاک فو ج نے افغانستان میں کردی۔لیکن کسی ایک فرد یا افراد کے گروہ کی غلطیوں کی سزا پاکستانی قوم کو دینا یا اس کے کسی ادارے کو دینا ناجائز ہے۔ مندرجہ بالا متفقہ فتوی کی روشنی میں پاکستانی افواج پر حملے ناجائز ہیں۔پاکستان کے جید عالم دین اور جمعیت علما ئے اسلام کے سر پرست اعلی شیخ القرآن والحدیث مولانا حمد اللہ جان بابا جی آف ڈاگئی کئی سال پہلے یہی فتوی دے چکے ہیں۔جس کا ذکر کئی سال پہلے راقم نے اپنے ایک اخباری کالم میں بھی کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ پاکستانی فوج پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور پاکستان پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔میرے جیسا ایک عام مسلمان اور غیر سیاسی انسان تو صرف فریاد کرسکتا ہے۔رو سکتا ہے۔آنسو بہا سکتا ہے کہ خدا را اپنے بھائیوں کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائیں۔
مصر کے مرحوم صدر محمد مرسی نے مرنے سے پہلے وصیت کی تھی کہ اپنے گھر کے شیروں کو مت مارئیے۔ورنہ دشمن کے گیدڑ تمھیں کھا جائینگے۔

مزید پڑھیں:  گری ہوئی سیاست