عمر آنکھوں میں اسی درد سے سودائی ہے

سکیورٹی معاملات کے حوالے سے بڑے لوگوں کی نقل وحمل پرنگاہ رکھنے اور ان کی حفاظت کے تقاضوں کے پیش نظر شاہراہوں پر ”روٹ” لگایا جاتا ہے یعنی جہاں اور جس شاہراہ یا سڑک سے ان اہم لوگوں کو گزرنا ہوتا ہے وہاں پہلے سے ٹریفک روک دی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب تک ان کی ”سواری بادبہاری” ان علاقوں سے گزر نہیں جاتی تب تک عام لوگ ”جہاں ہے اور جیسے ہے” کی بنیاد پر سٹینڈ سٹل رہنے پر مجبور ہوتے ہیں ، یا زبردستی روک لئے جاتے ہیں تاکہ ”صاحب بہادر” کو گزرنے میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ٹریفک کا نظام اب اس قدر گنجلک ہوچکا ہے کہ سڑکوں پر روٹ لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ، بلکہ آج کل دنیا کے مختلف ممالک میں اونچی عمارتوں کے اوپر ہیلی پیڈ اس لئے بنوائے جاتے ہیں کہ سڑکوں پر بے انتہا رش کی وجہ سے وقت کی بچت کے لئے لوگ سڑکوں پر وقت ”ضائع” کرنے سے احتراز کا یہ کلیہ دریافت کر چکے ہیں کہ اب وہ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح چند سال پہلے ہمارے ایک سابق وزیر اعظم بھی اپنی رہائش گاہ سے اپنے دفتر(وزیر اعظم سیکرٹریٹ) تک آنے جانے کے لئے یعنی ”عوام کو زحمت سے بچانے کے لئے ”55 کلو میٹر کے خرچ سے اڑنے والے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے تھے بلکہ جب موصوف کو آئین کے مطابق وزارت عظمیٰ سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کیا گیا تو انہوں نے حکومت خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو چنگ چی رکشے کی طرح استعمال کرنے کا ایسا ریکارڈ بھی قائم یا جس کو خدا جانے کیوں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ والوں نے توجہ نہیں دی اور نہ صرف موصوف نے صوبائی وسائل کا استحصال کیا بلکہ ان کی جماعت کے دیگر رہنمائوں اور ان کے مقربین نے بھی ان ”حقوق” کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور آئندہ ان اقدامات کے خلاف کسی بھی قانونی گرفت سے بچنے کے لئے صوبائی اسمبلی میں ایسی قانون سازی بھی کی جس کو ” ڈھٹائی” قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے ، خیر اس سے پہلے کہ بات کسی اور طرف چلی جائے واپس اپنے موضوع کی جانب چلتے ہیں اور اس حوالے سے ہمارے ہاں جس بھیڑ چال کی وباء پہلے ہی سے موجود ہے یعنی ہمارے ہاں بقول شخصے ”بڑے لوگوں” کی نقل کے شوق میں تقلید ایک وباء کی صورت اختیار کر چکی ہے ، اس لئے ترقی یافتہ ممالک میں بڑے بڑے ٹائیکون بھی سڑکوں پر ٹریفک کی رش کی وجہ سے وقت ضائع کرنے کی بجائے ” ہوائی ٹیکسیاں” یعنی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہیں اور جن کے پاس اپنے ہیلی نہ ہوں انہیں کرائے پر یہ سہولت آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہے، حالیہ انتخابات کے بعد پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے جاتی امراء سے اپنے دفتر تک آنے جانے کے لئے ایک بار پھر یہی بہتر سمجھا کہ وہ روٹ لگوا کر سڑک کے ذریعے آئیں جائیں جس کی وجہ سے عوام کو ایک بار پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ مطالبات سامنے آئے کہ موصوفہ شاہراہوں پر روٹ لگوانے کی بجائے اگر ہیلی کاپٹر کا استعمال کریں تو عوام کی مشکلات میں کمی آسکتی ہے مگر اب اسے کیا کیا جائے کہ ہمارے حکمرانوں کی ” روٹ لگوانے ” کی عادات اس قدر راسخ ہو چکی ہیں کہ اپنا ملک تو ایک طرف اب ان کی یہ روایات دوسرے ملکوں تک بھی ان کے ساتھ سفر کرنے لگی ہیں اور اس حوالے سے گزشتہ روز جب وزیر اعظم اور ان کی ٹیم نے دورہ سعودی عرب سے پاکستان واپسی کا قصد کیا تو وہاں بھی انہوں نے ” روٹ” لگوانے کی اس عادت کو نہیں چھوڑا یعنی جس جہاز میں انہوں نے وطن واپسی کرنا تھی اس کو ایئرپورٹ پر دو گھنٹے”روٹ لگوانے” کا شکار کرتے ہوئے دیگر مسافروں کو عذاب سے دو چار کیا ، بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ جب مذکورہ فلائیٹ پاکستان کی حدود میں داخل ہوئی تو اس کا رخ مبینہ طور پر اسلام آباد سے لاہور کی جانب موڑ دیاگیا اور عوام کو بار دیگر عذاب سے دو چار کر دیا گیا حالانکہ اگرچہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کو لاہور جانا تھا تو وہ اسلام آباد ہی سے یا تو کنیکٹیڈ فلائٹ خصوصی طیارے یا پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے آسانی سے جا سکتی تھیں ، مگر اسلام آباد کے مسافروں کو مشکل سے دوچار کرنے کی بجائے انہوں نے پہلے طیارہ لاہور میں اتارنے کو ترجیح دی اور یوں وزیر اعظم کے وفد سے سرکاری خصوصی طیارے کے استعمال سے پرہیز کرتے ہوئے اور اپنی جیبوں سے عام طیارے کے ٹکٹ خریدنے کی اچھی حکمت عملی سے جو نیک نامی کمانے کی کوششیں کیں ہیں ”روٹ لگوانے” کی حرکتوں نے ان تمام نیکیوں اور اچھائیوں پر پانی پھیر دیا یعنی نیکی برباد گناہ لازم ، بقول ڈاکٹر شاہدہ سردار
چاند چھونے کی تمنا میں کھڑی ہوں کب سے
عمر آنکھوں میں اسی درد سے سودائی ہے
یہاں ابو بن ادھم کا وہ واقعہ یاد آگیا جب ایک رات کمرے میں پھیلی ہوئی روشنی کی چکا چوند سے ان کی آنکھ کھل جاتی ہے تو انہیں ایک فرشتہ نظر آجاتا ہے جو ایک کتاب میں ان افراد کے ناموں کا اندراج کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ سے محبت ہوتی ہے ، اس فہرست میں ابو بن ادھم کا نام نہیں ہوتا تو وہ فرشتے سے درخواست کرتا ہے کہ ان کا نام اس فہرست میں شامل کر دیں جواللہ کے بندوں سے پیار کرتے ہیں فرشتہ نام درج کرکے غائب ہو جاتا ہے اگلی رات ایک بارپھر فرشتہ آتا ہے تو روشنی کی چکا چوند سے بن ادھم کی آنکھ کھل جاتی ہے ، بن ادھم فرشتے سے پھر پوچھتا ہے کہ آج کونسی فہرست لکھی جارہی ہے ، فرشتہ جواب دیتا ہے یہ ان لوگوں کے نام ہیں جن سے اللہ رب ا لعزت خود محبت کرتے ہیں اور فہرست میں بن ادھم کا نام سب سے اوپر لکھا ہوتا ہے ، یوں دیکھا جائے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور مریم نواز نے اللہ کے بندوں کو زحمت سے بچانے کے لئے سرکاری چارٹرڈ طیارے سے سفر کرنا مناب نہیں سمجھا مگر متعلقہ عملے نے جس طرح ان کے لئے ہوائی جہاز کا روٹ لگوایا اس سے سارا معاملہ ہی الٹ ہوگیا ۔بقول شیخ سعدی
بردر کعبہ سائلے دیدم
کہ ہمی گفت و میگرستے خوش
من نگویم کی طاعتم بہ پذیر
قلم عفو برگناہم کش
خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں؟

مزید پڑھیں:  مفروضوں پر مبنی بجٹ