بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ

خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ماہ رمضان کے دوران اور ازاں بعد عید کے دنوں میں بجلی اور گیس کے جس شدید بحران کا عوام کو سامنا کرنا پڑا اس کی مثال گزشتہ برسوں میں کم کم ہی دیکھنے کو ملتی رہی ہے، رمضان میں سہ پہر تین، چار بجے کے بعد گیس کی فراہمی بھی بہت حد تک متاثر رہتی تھی جبکہ اذان مغرب کے فوراً بعد گیس غائب ہو جاتی تھی، حالانکہ لوگ نماز مغرب اور نماز عشاء و تراویح کے بعد ہی کھانا گرم کرنے کی ضرورت محسوس کرتے تھے مگر متعلقہ حکام یہ سوچ کر کہ افطار کے فوراً بعد لوگ کھانا کھانے سے فارغ ہونے کے بعد گیس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتے گیس سپلائی روک دیتے، اسی طرح عید کے پہلے دن تو صورتحال قدر ے بہتر رہی مگر رات نو بجے کے بعد سے اگلے دو تین دن وہی چال بے ڈھنگی کا آغاز کر دیا گیا، جبکہ ہر گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا اور لوگ عزیزوں و رشتہ داروں سے عید ملنے جاتے تو میزبان ان کی خاطر تواضع کرنے کیلئے چائے ،کھانے کی تیاری کیلئے گیس سے محروم ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہے، بعض لوگوں نے بہ امر مجبوری سلنڈروں سے استفادہ کرنے پر اکتفا کیا ،اسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی بے دریغ اضافہ سے لوگ مشکلات کا شکار رہے، حالانکہ صوبہ خیبر پختونخوا نہ صرف اپنی پن بجلی اور گیس اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ پیدا کرتا ہے مگر متعلقہ وزارت اور اس کے اعلیٰ حکام جس طرح آئین کے تقاضوں کے مطابق صوبے کے حقوق کو تسلیم کرنے کو تیار نہیںہیں اس پر سوائے مذمت کے اور کوئی چارہ نہیں ہے جبکہ صوبائی حکومت بھی اس حوالے سے خاموش تماشائی بن کر عوام کے استحصال میں وفاق کا ساتھ دے رہی ہے جو کسی بھی طور قابل قبول صورتحال نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:  گری ہوئی سیاست