ایران اسرائیل کشید گی اور سلامتی کونسل کی ناکامی

جارح اسرائیل کو مزہ چکھانے کے اعلان پر بھرپور عمل درآمد کے بعد ایران نے اس انتباہ کے ساتھ آ پریشن ختم کیا کہ وہ کسی بھی اسرائیلی غلطی کا پوری طرح مزہ چکھانے کیلئے تیار ہے دوسری جانب اسرائیل کی فریا د پر طلب شدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بغیر کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ملتوی ہونا عین متوقع اس لئے تھا کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم پر جس طرح مغربی دنیا نے اسرائیل کی پشت پناہی کی اس کے بعد نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ بعض غیر مسلم ممالک بھی اسرائیل کی ناجائز حمایت پر نالاں تھیں اور اس کی بھرپور مذمت کر رہی تھیں ایران کے جوابی اقدامات سے اسرائیلی نقصانات کی پوری تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ ئیں ایک نظریاتی ملک کیلئے یہ اہم نہیں بلکہ یہ اہم ہوتا ہے کہ اس نے بلا خوف جواب کا حق استعمال کیا اگر ہم جہاد کے نقطہ نظر سے اس عمل کا جائزہ لیں تو گو کہ غزہ کے مجاہدین کو بظاھر کامیابی نہیں ملی لیکن انہوں نے جان ومال اور اہل وعیال گھر بار سبھی کچھ کی قربانی دے کر تاریخ رقم کی اور ناقابل چیلنج سمجھے جانے والے اسرائیل کے دفاعی نظام کے بخیے ادھیڑ دیئے اب ایران نے ان کی جانب سے ڈالے گئے دراڑ کو مزید وسعت دے دی اسرائیل پر بھرپور وار کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ اس نے ان کو اتحادیوں سمیت ہلا کر رکھ دیا اسلامی ممالک کی بے حسی اور بے حمیتی کے باعث مایوسی کے جو حالات بن گئے تھے ایرانی اقدام سے حوصلہ ملا کہ ابھی اس خاکستر میں چنگاری باقی ہے جھاد کی تاریخ ہی یہ ہے کہ کفار اور طاغوتی طاقتیں ایک ہوتی ہیں مسلمان رب کے اس وعدے اور توجہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ بسا اوقات کم تعداد بڑی تعداد پر اللہ تعالی کے اذن سے غالب آ تی ہے معرکہ بدر سے لیکر غزوہ تبوک تک اور کم و بیش ہر غزوہ اور سرایا میں یہی صورت حال رہی ہے ایران نے بھی طاغوتی قوتوں کو ہر سود وزیاں سے مبرا ہو کر للکارا ہے ایسے میں یہ امر ہی ثانوی ہے کہ اس کے ڈرونز اور میزائل اسرائیل پہنچے یا راستے میں روک لیے گئے اس حملے کا ہونا اور اپنی طرف سے حملہ جھاد کے اس حکم کی تعمیل ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ساڑھے پانچ سو سے زائد بار آ یا ہے اور جھاد کو کامیابی بتایا گیا ہے بہت عرصے بعد اسرائیل کو یکے بعد دیگرے جو مسکت جواب دیئے گئے اس کے اثرات سامنے آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی یہودی بزدل قوم ہے اس ایک حملے کے بعد ہی ان میں جو کھبلی مچی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اسرائیل نے ایران کو غزہ بنانیکی جو دہمکی دی ہے اس پر کاربند رہنا آ سان نہ ہوگا ستر اسی لاکھ یہودیوں کی بزدلی تو مسلمہ ہے دکھ کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ کے حکمرانوں میں حمیت باقی نہیں حد یہ کہ خود اسلامی ملک اردن اسرائیل کے دفاع میں پیش پیش ہے جس طرح امریکہ اور برطانیہ اسرائیل کی پشت پناہی کررہی ہیں ایران کو اہم اسلامی ممالک صرف حمایت ہی کا یقین دلائیں تو اسرائیل سے نمٹنا مشکل نہیں ایران کے ایک ٹیسٹنگ اٹیک کو روکنے میں اسرائیل کے ایک ارب ڈالر لگ گئیاور اگر واقعی ہی حملے ہوں تو اتحادیوں کے باوجود اس کیلئے میدان جنگ میں کھڑا ہو نا آ سان نہ ہوگا اسرائیل کو دیر یا بدیر بالآخر نیست و نابود ہو نا یقینی ہے مسلمان کتنے بھی شھید کئے جائیں بالآخر غلبہ حاصل ہونے کا وعدہ ہے اور ایسا پکا وعدہ کہ اس کے پورے ہونے کا کامل یقین ہے اس وقت مشرقِ وسطی میں جس طرح کے حالات ہیں وہ عالمی امن کیلئے خطرہ اور تیسری جنگ عظیم کا خطرہ ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ناکام ہوچکا ہے اور مزید کسی بھی قسم کی کوئی حربی حرکت دنیا کو جنگ میں جھونک سکتی ہے جس سے بچنے کا تقاضا ہے کہ اسرائیل نہ صرف اس جوابی اقدام کو برداشت کرے بلکہ غزہ میں مظالم سے بھی باز آ ئے۔سلامتی کونسل کے اجلاس کی ناکامی سے ایک مرتبہ پھر یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ عالمی ادارہ ایک مرتبہ پھر دنیا کے امن کو درپیش خطرے کو روکنے اور عالمی تنازعات کو حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اس کے اجلاس واہمیت عبث ہیں سلامتی کونسل کے عضو معطل ہونے کی وجوہات کوئی پوشیدہ امر نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کا ادراک کیا جائے اس حقیقت کا جتنا جلد ادراک کیا جائے کہ ایران اسرائیل تنازعہ علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ سنگین عالمی مسئلہ ہے جس کے دنیا بھر پر اثرات سے صرفِ نظر ممکن نہیں صورتحال کا تقاضا ہے کہ سلامتی کونسل کے ممبران منقسم ہونے کی بجائے متحد ہو کر اس تنازعے کو ختم کرنے میں کردار ادا کر کے دنیا کے امن کو درپیش خطرے کا تدارک یقینی بنائیں جس کیلئے غیر جانبدار انہ کردار ادا کر نے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:  آپ ''بھی'' اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں