ریگی ماڈل ٹاؤن کا دیرینہ تنازعہ

ریگی ماڈل ٹاؤن کا چونتیس سالہ تنازعہ حل کرنے کیلئے کمشنر پشاور اور کوکی خیل قبیلے کے نمائندوں کے درمیان بات چیت احسن امر ضرور ہے لیکن اس سے پیش رفت کی امید خوش فہمی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ اس طرح کے درجنوں مساعی ہوچکی ہیں جن کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ریگی ماڈل ٹاؤن کے پلاٹ مالکان احتجاج کرتے آ ئے ہیں اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے لیکن اس کے باوجود معاملہ جوں کا توں ہی برقرار ہے بہرحال حکومتی مساعی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور اس پیچیدہ مسئلے کا حل بھی بات چیت ہی نکلنا ہے بار بار کی ناکامی اس امر پر دال ہے کہ فریقین اپنے مؤقف اور فارمولہ پر نرمی اور لچک اختیار کرنے پر تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ ہر بار اختلافات طے نہیں ہوپاتے فریقین کو سوچنا چاہیے کہ آ خر کب تک یہ سب کچھ دہرانے کا سلسلہ جاری رہے گا بنا بریں اس امر کے ادراک کی ضرورت ہے کہ اس طرح سے یہ معاملات طے ہونے والے نہیں ایسے میں فریقین معاملہ کیلئے لچکدار موقف اختیار کرنے اور کچھ لو اور کچھ دو کا اصول اپنا نا چاہیے جہاں تک متاثر ین کا سوال ہے دیکھا جائے تو پی ڈی اے پلاٹ فروخت کرچکی ہے اور اراضی مالکان کو بھی رقم کسی نہ کسی طرح مل چکی ہے ایسے میں اصل متاثرہ فریق پلاٹ مالکان ہی ٹھہرتے ہیں جن میں سے کئی سے زیادہ اس امید کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں کہ ان کے ورثاء کو جلد پلاٹوں کا قبضہ مل جائے گا مگر” اے آ روز کہ خاک شد” اس مرتبہ جس نئے عزم کے ساتھ معاملہ نمٹانے کی سعی ہورہی ہے اس کو کامیاب بنانے کیلئے کچھ نہ کچھ سمجھوتے کی ضرورت ہوگی دوسری کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

مزید پڑھیں:  ''جذبہ رقابت یا اسبابِ عیش کی نایابی''