روٹی کی قیمت دا گز دا میدان

پنجاب میں بغیر کسی عملی مشق اور جائزے کے روٹی کی قیمت کم کر دی گئی تو اس کی دیکھا دیکھی خیبر پختونخوا میں بھی روٹی کی قیمت میں پنجاب سے بھی زیادہ کی کمی کردی گئی جبکہ عالم یہ کہ یہاں نوے سے پچانوے گرام کی روٹی بیس روپے میں فروخت کرکے نانبائی خسارے اور تاوان کا رونا رو رہے تھے اب وہ سوگرام کی روٹی پندرہ روپے میں فروخت کیسے کریں گے ایک جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف سیزن میں گندم ریٹ کم کرکے مریم نواز پنجاب میں کسانوں کا معاشی قتل کر رہی ہیں پنجاب میں روٹی اور آٹا کی قیمتیں کم کرنا محترمہ کا ایک نیا دکھاوا ہے کا بیان جاری کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز کی ڈرامہ بازی کر رہی ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ روٹی کی قیمت کم کر کے 16 روپے کرنا ڈرامہ بازی کے سوا کچھ نہیں ہے۔لیکن دوسری جانب حکومت کی نقالی کرکے خود خیبر پختونخوا میں روٹی کی قیمت میں کمی کرنے کے ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا قسم کے جوابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں مشیر اطلاعات کے بیشتر بیانات سے اس امر کااظہار ہوتاہے کہ ان کے اعصاب پر وزیراعلیٰ پنجاب حاوی نظر آتی ہیں جس سے قطع نظر خیبر پختونخوا حکومت کو پنجاب کی طرح کی ڈرامہ بازی کی ضرورت ہی کیا تھی جوحکومت روٹی کے مقررہ وزن کی پابندی میں ایک دن بھی کامیاب نہ ٹھہری ہوان کے لئے کیا یہ بہتر نہ تھا کہ وہ روٹی کے وزن اور سرکاری ریٹ کی پابندی پر توجہ دیتی پنجاب اور خیبر پختونخوا دونوں حکومتوں کی جانب سے روٹی کی قیمت میں کمی کے اعلانات کو نانبائیوں نے مسترد کیا ہے اور نانبائی ویسے بھی حکومتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے عادی ہیں ایسے میں ان احکامات کا ہوامیں اڑنا یقینی ہے جس کے بعد حکومتی اقدامات اوردعوئوں کی ناکامی پرعوامی تنقید اور مایوسی فطری امر ہوگا اب جبکہ اعلان ہوچکا ہے تویہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے احکامات پرعملدرآمد کراکے دکھائیں۔

مزید پڑھیں:  صوبائی کابینہ کا احتساب